کلامِ ربی بزبانِ اقبالؒ – 07

باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں کارِ جہاں دراز ہے، اب مرا انتظار کر حضرت اقبال علیہ رحمہ اس شعر میں فرماتے ہیں، یارب العالمین ، اے پاک ذات تو نے اپنی مشیت کے مطابق اور اپنی رضا سے حضرت آدمؑ کو خود جنت سے نکالا اور اسے اس دنیا کو آباد …

کلامِ ربی بزبانِ اقبالؒ – 07 Read More »

کلامِ ربی بزبانِ اقبالؒ – 06

گیسوئے تاب‌دار کو اور بھی تاب‌دار کر ہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کر اس شعر کے پہلے مصرع میں گیسوئے تابدار سے مجاز کی بجائے ہم اس کو حقیقت پر محمول کریں گے اور گیسو سے مراد زلف کی بجائے تجلیات رب العالمین مراد لیں گے اور اگر اس غزل کو …

کلامِ ربی بزبانِ اقبالؒ – 06 Read More »

کلامِ ربی بزبان اقبالؒ – 05

محمدؐ بھی ترا، جبریل بھی، قرآن بھی تیرا مگر یہ حرفِ شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا؟ حضرت اقبال علیہ رحمہ اس شعر میں فرماتے ہیں یارب اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ حضور نبی اکرمﷺ بھی تیرے ہیں اور تو نے ہی انہیں ہمارے لیے خاتم النبین و رسل بنا کر بھیجا …

کلامِ ربی بزبان اقبالؒ – 05 Read More »

کلامِ ربی بزبان اقبال – 04

کلامِ ربی بزبان اقبال – 04 اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لامکاں خالی خطا کس کی ہے یا رب! لامکاں تیرا ہے یا میرا؟ اس شعر میں دو لفظ غور طلب ہیں ایک “ہنگامہ ہائے شوق” اور دوسرا “لامکاں”۔اللہ رب العزت کی صفاتِ بابرکات میں ہے کہ وہ کسی مکان اور زمان کی پابند …

کلامِ ربی بزبان اقبال – 04 Read More »

کلامِ ربی بزبان اقبال – 03

تُو نے یہ کیا غضب کِیا، مجھ کو بھی فاش کر دیا مَیں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں! اس شعر میں حضرت اقبال اللہ رب العزت سے گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے میرے کریم رب ، اس کائنات میں ایک میں ہی تو تیرا راز تھا اور تو نےمجھے ہی …

کلامِ ربی بزبان اقبال – 03 Read More »

کلامِ ربی بزبانِ اقبال – 02

گرچہ ہے میری جُستجو دَیر و حرم کی نقش بند میری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات میں اس شعر میں حضرت اقبال قرآن حکیم کی آیت کا مفہوم بیان کرتے ہیں، جس میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ تم جدھر بھی منہ کرو گے اللہ رب العزت کی رحمت کو پائو گے۔ حضرت …

کلامِ ربی بزبانِ اقبال – 02 Read More »

کلام ربی بزبان اقبال-01

– 01 میری نوائے شوق سے شور حریمِ ذات میں غلغلہ ہائے الاماں بُت کدۂ صفات میں اللہ رب العزت کو اللہ ہی کی خاطر چاہنے والا جب اس کے حریم میں پہنچتا ہے تو ایک شور اٹھتا ہے کہ کیا ایسا بھی کوئی چاہنے والا ہے جو صفات کی وجہ سے نہیں بلکہ ذات …

کلام ربی بزبان اقبال-01 Read More »

Shopping Cart
Scroll to Top