ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ، غالب و کار آفریں، کار کشا، کار ساز۔ پہلے مشکل الفاظ کے معنی دیکھ لیں۔ غالب ، غلبہ پانے والا۔ کار آفریں، اچھے کام کرنے والا۔ کارکشا، مشکل کام کرنے والا۔ الجھنیں سلجھانے والا۔ کارساز، بگڑے کام سنوارنے والا۔ بندہ مومن کا ہاتھ ، اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے وہ جو کچھ کرتا ہے خدا کے لئے کرتا ہے اس کا کوئی عمل ذاتی غرض سے آلودہ نہیں ہوتا۔ لہذا اللہ اپنی رحمت سے اس کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ کی شان پیدا کر دیتا ہے مثلا مومن کا ہاتھ خدا کے ہاتھ کی طرح سب پر غالب رہتا ہے وہ سب کو حسن عمل کا راستہ دکھاتا ہے۔ کسی کے کام میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اسے دور کر دیتا ہے اور کسی کا سلسلہ کار بگڑ جائے تو اسے سنوار دیتا ہے۔ یعنی مومن کی برکت سے لوگوں کی سرگرمیاں صحیح مسلک پر رہتی ہیں۔ ان کی مشکلیں آسان ہوتی ہیں۔ ان کی بگڑی بنتی ہے۔ باطل قوتوں کے لیے ابھرنے کا کوئی موقع نہیں رہتا۔ یہ شعر اس حدیث قدسی کا مفہوم پیش کرتا ہے جو صحیح بخاری کی کتاب الرقاق میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے اور اس کا متعلقہ ٹکڑا یہ ہے کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرا بندہ نفلوں کے ذریعے سے میرے قریب ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب انسان اپنا وجود رضائے الہی کے لیے وقف کر دے اور سچا مومن بن جائے تو یقینا اس کا ہر کام خدائی کام بن جاتا ہے اس لیے کہ اسے خدا کی رضا کے سوا کچھ مقصود نہیں ہوتا۔ بندہ مومن دراصل صحیح معنوں میں اللہ کا نائب ہوتا ہے کیونکہ وہ تمام کام اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہے اور انہیں ذاتی منفعت سے بے نیاز ہو کر انجام دیتا ہے اس لیے اس کے ہاتھ سے جو کام سرزد ہوتا ہے وہ ایسا ہی ہے گویا اللہ نے اپنے ہاتھوں سے انجام دیا ہے چنانچہ مرد مومن کا ہاتھ دنیا پر غالب آجاتا ہے، وہ بگڑے کاموں کو بناتا ہے، نئے نئے کاموں کے راستے کھولتا ہے اور ان نئے کاموں کو شروع کرکے انہیں تکمیل تک پہنچاتا ہے۔

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Shopping Cart
Scroll to Top