بیم و شک میرد عمل گیرد حیات
چشم می بیند ضمیرِ کائنات

توحید سے خوف اور شک ختم ہو جاتا ہے اور عمل زندہ ہوتا ہے
اور انسان کی نگاہ کائنات کے پوشیدہ راز دیکھنےلگتی ہے۔

چون مقامِ عبدہٗ محکم شود
کاسئہ دریوزہ جامِ جم شود

جب بندگی کا مقام محکم ہوتا ہے
تو کشکول گدائی جام جم بن جاتا ہے

ملتِ بیضا تن و جان لاالہ
ساز ما را پردہ گردان لاالہ

ملّت مسلمہ بدن ہے، اور توحید اس کی جان ہے لاالہ الااللہ ہمارے ساز کے سارے نغموں میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

لاالہ سرمایۂ اسرارِ ما
رشتہ اش شیرازۂ افکارِ ما

لاالہ الااللہ ہمارے (روحانی ) اسرار کا سرمایہ ہے
اسی سے ہمارے افکار کی شیرازہ بندی ہے۔

حرفش از لب چوں بہ دل آید ہمی
زندگی را قوت افزاید ہمی

جب یہ لفظ لب سے دل میں اتر جاتا ہے
تو زندگی کی قوّت میں بے پناہ اضافہ کر دیتا ہے۔

نقشِ او گر سنگ گیرد دل شوَد
دل گر از یادش نسوزد گِل شوَد

اگر پتھر بھی اس کا نقش اپنا لے تو وہ دل بن جاتا ہے
اور اگر دل اس کی یاد سے سوز حاصل نہ کرے تو وہ مٹی کے برابر ہے۔

رموز بیخودی

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Shopping Cart
Scroll to Top