علامہ اقبال کے زبور عجم سے تین خوبصورت اشعار پیش خدمت ہیں۔ چناں خود را نگہ داری کہ با ایں بے نیازی ہا، شہادت بر وجودِ خود زخونِ دوستاں خواہی، مقام بندگی دیگر، مقامِ عاشقی دیگر، زنوری سجدہ می خواہی زخاکی بیش ازاں خواہی۔ مسے خامے کہ دارم زمحبت کیمیا سازم، کہ فردا چوں رسم پیشِ تواز من ارمغاں خواھی۔ مسے خامے کہ دارم زمحبت کیمیا سازم، کہ فردا چوں رسم پیشِ تواز من ارمغاں خواھی۔ مسے خامے کہ دارم زمحبت کیمیا سازم، کہ فردا چوں رسم پیشِ تواز من ارمغاں خواھی۔ پہلے شعر میں اقبال خدا سے کہتے ہیں کہ آپ اپنا اتنا خیال رکھتے ہیں کہ باوجود بے نیازھونے کے اپنے وجود پر دوستوں کے خون سے شہادت چاہتے ہیں۔ اقبالؒ کی نظر میں فلسفۂِ شہادتِ حسینؑ علیہ السلام بھی یہی ھے کہ آپ نے اللہ کے وجود کی گواھی اپنی شہادت پیش کرکے دے دی۔ کیوں کہ اللہ کو اپنے قریب ترین دوستوں سے یہی گواھی مطلوب ھے جو امام عالی مقام نے بلا چون و چرا پیش کردی۔ دوسرا شعر اور اس کا ترجمہ سن لیجئے۔ مقامِ بندگی دیگر ، مقامِ عاشقی دیگر، ز نوری سجدہ می خواھی، ز خاکی بیش ازاں خواھی، بندگی کا مقام اور ھے عاشقی کا مقام اور ھے۔ فرشتے جو نوری مخلوق ہیں ان سے آپ صرف سجدہ چاہتے ہیں لیکن خاکی انسان سے اس سے بھی بڑھ کر کچھ چاہتے ہیں یعنی ان کی شہادت کے طلب گار ہیں۔ اقبال نے یہاں شہادت کے لفظ کو بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا۔ کہتے ہیں کہ ایک مقام بندگی ہے، وہ کچھ اور ہے۔ اگرچہ انسانوں کی زندگی کا مقصد ہی بندگی ہے، لیکن اُن سے اس سے بڑھ کر بھی کچھ مطلوب ہے۔ بندگی تو فرشتے بھی کرتے ہیں۔ وہ اللہ کے کسی حکم سے سرتابی نہیں کرتے۔ جو کچھ انہیں حکم ہوتا ہے، اُسے بجا لاتے ہیں۔ خدایا، فرشتوں سے تو تجھے محض بندگی مطلوب ہے، لیکن تو نے جو خاکی مخلوق بنائی ہے اس سے تجھے اس سے بڑھ کر کچھ مطلوب ہے۔ جو تیرے سچے دوست ہیں، تو چاہتا ہے کہ وہ اپنی جان کی قربانی دے کر تیری محبت کی گواہی اور شہادت دیں، اپنا خون دے کرثابت کریں کہ واقعی ہم اللہ کے وفادار ہیں اور اس کے عاشق ہیں۔ اقبال نے یہ مضمون قرآن مجید سے ہی لیا ہے۔ سورۃ الصف میں فرمایا گیا ہے: ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں ایسے صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں کہ گویا سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں وہ بے شک اللہ کے محبوب ہیں۔‘‘ دوسری جگہ فرمایا:’’وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں تو قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں۔ راہ خدا میں شہید ہونے والے کو بہت اونچا مقام کیوں دیا گیا ہے۔ اس لئے کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنی جان دے کر ثابت کرتا ہے کہ دنیا میں اس سے بڑا کوئی گواہ نہیں ہے، وہ واقعی اللہ کا سچا عاشق تھا اور جو رب کے عاشق ہوتے ہیں، ان کی غیرت و حمیت اللہ کی زمین پر باطل نظام کو برداشت نہیں کر سکتی۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ رب کی زمین پر باطل قوتوں کا قبضہ ہو اور اللہ کے وفادار آرام سے لمبی تان کے سوئے رہیں۔ یہ روش وفاداری کے خلاف ہے۔ تیسرا شعر دوبارہ سن لیں، مسے خامے کہ دارم ز محبت کیمیا سازم، کہ فردا چوں رسم پیشِ تواز من ارمغاں خواھی۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ میرے پاس جو کچا تانبا یعنی قلب ھے ، میں اسے آپ کی محبت سے کیمیا بنا رہا ھوں ۔ کیوں کہ کل یعنی روزِ قیامت جب میں آپ کے سامنے پیش ھوں گا تو آپ فرمائیں گے : میرے لئے کیا تحفہ لائے ھو۔

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Shopping Cart
Scroll to Top