خاکی و نوری نہاد بندۂ مولا صفات، ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیاز۔ پہلے مشکل الفاظ کے معنی۔ نوری نہاد کا مطلب روشن فطرت یا روحانی مزاج کا حامل۔ بندہ مومن اگرچہ جسم کے اعتبار سے خاکی ہوتا ہے لیکن فطرت و طبیعت کے لحاظ سے اس کے نوری ہونے میں کسی کو کلام نہیں ہو سکتا۔ اس کے اندر اپنے آقا و مولا کی صفتیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس کا بے نیاز دل دنیا اور عقبیٰ کی کسی چیز پر نہیں ٹھہرتا۔ اس کا مقصود ذات باری تعالی کی خوشنودی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ بندہ مومن اگرچہ عام انسانوں کی طرح خاکی اور فانی ہے لیکن اس کی فطرت میں نور ہے یعنی وہ دنیا کی تاریکیوں کو دور کرتا ہے اور یہ خدائی صفت ہے۔ بندۂ مومن ذاتی خواہشات اور مفادات سے بالاتر ہوتا ہے۔ وہ خلق خدا کی بھلائی کے لیے کام کرتا ہے۔ اسے ان کاموں کا اجر نہ تو اس دنیا میں چاہیے اور نہ آخرت میں۔ اسی لیے ایک اور جگہ اقبال نے یہ بھی کہا ہے کہ، سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے، اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے۔

 

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Shopping Cart
Scroll to Top