حاجی جمال محمد
جنوبی ہند کے عظیم سپوت اور معمارِ قوم، جنہوں نے علامہ سیدسلیمان ندوی، علامہ پکتھال، اور علامہ اقبال کے خطبات دنیا کو عطاکیے
http://www.bhatkallys.com/ur/author/muniri/

تحریر: ڈاکٹر عبد الحق کرنولی (افضل العلماء)
عظیم مؤرخ علامہ عبدالحئی حسنی ؒ نے اپنی کتاب ’’یادِ ایام۔ تاریخ گجرات‘‘ میں مہائم ممبئی میں مدفون، برصغیر میں شاہ معین الدین اجمیریؒ کے بعد دوسرے مقبول ترین بزرگ، مفسر و فقیہ شیخ علاء الدین علی المہایمی النایتی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں احساسات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’ایک ایسا شخص جس کو ابن عربی ثانی کہنا زیبا ہے، وہ کس کسمپرسی کی حالت میں ہے، کہیں اور ان کا وجود ہوا ہوتا تو ان کی سیرت پر کتنی کتابیں لکھی جاچکی ہوتیں، اور کس پُرفخر لہجے میں مؤرخین ان کی داستانوں کو دہراتے‘‘۔ (52)
یہ بات شیخ مہایمی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ رویہ جنوبی ہند کی عموماً عظیم شخصیات کے ساتھ پیش آیا ہے، کہ ان کے کارنامے دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ رہ گئے۔ یہی دیکھیے آج جنوبی ہند کا مسلمان دینی، تعلیمی اور معاشی میدانوں میں شمالی ہند کے اپنے بھائیوں سے کتنا آگے نظرآتا ہے، ان کی حالت بھی مغربی سامراج اور تقسیم ہند کے بعد دوسری جگہ کے مسلمانوں جیسی تھی، لیکن وہ اس لحاظ سے بڑے خوش نصیب تھے کہ انہیں جو رہنما ملے وہ مخلص تھے، اور انہیں درست ترجیحات سے آگاہی تھی۔ آج جو بھی مختلف میدانوں میں ان کی ترقیاں نظر آتی ہیں، یہ انہی مخلصین کی قربانیوں کی دین ہے۔ ملت کے لیے ان قربانی دینے والوں میں سے ایک فراموش شدہ شخصیت جناب حاجی جمال محمد مرحوم کی ہے، جن کا تعلق جنوبی ہند کے آخری سرے پر واقع رامناڈ کی روتھر برادری سے تھا، چنئی میں آپ کی ولادت حاجی جمال محی الدین کے یہاں 6جنوری1882ء کو ہوئی اور وفات 7 نومبر 1949ء کو۔
آپ کے والد مدراس (چنئی) خالی ہاتھ آئے تھے، لیکن یہاں آکر چمڑے کی تجارت میں لگ گئے۔ اللہ نے کامیابی عطا کی، انہیں مال ودولت سے خوب نوازا، تو انہوں نے بھی اللہ کی راہ میں دل کھول کر اسے پیش کردیا۔ جمال محی الدین مرحوم نے چنئی میں مدرسہ جمالیہ اور پیری میٹ جامع مسجد اور ترچناپلی میں بہت سارے اوقاف اپنی یادگار میں چھوڑے، آپ کے بعد بڑے فرزند جمال محمد نے ان کاموں کو چار چاند لگا دیے۔ مولانا عبدالماجد دریابادیؒ چنئی کے ڈاکٹر عبدالحق کرنولی (افضل العلماء) کو جنوب کا سرسید قرار دیتے ہیں، اور کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر صاحب کو اس بلندی تک پہنچانے میں جمال محمد مرحوم کا بڑا ہاتھ تھا۔ افسوس کہ امت کے اس عظیم محسن کو کبھی کا بھلا دیا گیا، اور ان کے سلسلے میں اردو میں کوئی تعارف نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ اردو کی عظیم ویب سائٹ ریختہ ڈاٹ کام کے توسط سے 1950ء کی دہائی میں مدراس (چنئی) سے جاری ایک ادبی مجلہ ’فانوس خیال‘ کا وہ شمارہ دستیاب ہوا، جس میں جمال محمد مرحوم کے قریبی دوست اور ساتھی ڈاکٹر عبدالحق کرنولی کی مرحوم کے آنکھوں دیکھے حالات پر لکھی ایک مستند تحریر شائع ہوئی ہے، جو آزادیِ ہند سے پہلے کے مدراس میں ملّی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتی ہے، جن میں جمال محمد کی شخصیت مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ اس تحریر کے ذریعے ایک طویل مدت بعد شاید پہلی مرتبہ دنیا پر آشکارا ہورہا ہے کہ دنیا وآفاق میں مشہور علامہ سید سلیمان ندوی کے خطبات مدراس، علامہ اقبال کے خطبات تشکیل الٰہیاتِ جدیدہ، اور علامہ محمد مارمادیوک پکتھال کے خطبات اسلام کا تہذیبی رخ، اسی عظیم معمارِ قوم کی دین ہے، اور یہ کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کوکسمپرسی کے عالم میں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے والی شخصیت بھی یہی تھی، اور ندوۃ العلماء لکھنؤ کا جمالیہ ہال بھی آ پ کی یادگار ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ علامہ سید سلیمان ندویؒ کے دو شاگردانِ عزیز اور ندوہ کے قابلِ فخر سپوتوں مولانا ابوالجلال ندوی اور مولانا سید ابو ظفر ندوی نے وطن سے دور جمالیہ کالج مدراس کے لیے اپنی خدمات کیوں پیش کیں۔
یوں تو اِس ناچیز کے اِس دنیا میں آنکھ کھولنے سے پہلے جمال محمد صاحب اس دنیا سے رحلت فرما چکے تھے، لیکن ان کے والد کے بوئے ہوئے اور آپ کے سینچے ہوئے درخت الکلیۃ العربیۃ الجمالیۃ کے عہدِ زریں میں یہاں تعلیم پانے اور آخری درجاتِ علمیت اور فضیلت کی سند حاصل کرنے کا شرف اس ناچیز حاصل ہوا۔ لیکن آپ کے جانشین جمال محی الدین مرحوم سابق یم و بانی جمال محمد کالج ترچناپلی، اور آپ کے داماد بانی قائد ملت جناب محمد اسماعیل مرحوم بانی انڈین یونین مسلم لیگ کے دور کو دیکھنے کا موقعہ نصیب ہوا، یہ تحریر بطور سوغات ڈاکٹرعبدالحق کرنولی (افضل العلماء) کی ایک فراموش شدہ تحریر کے ذریعے قومی یادداشت میں ملّت کے عظیم معمار کو تازہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔
عبدالمتین منیری۔ بھٹکل (کرناٹک)

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Shopping Cart
Scroll to Top