تجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا راز، اس کے دنوں کی تپش اس کی شبوں کا گداز۔ پہلے مشکل الفاظ کے معنی سن لیں۔ آشکار کا مطلب ظاہر ہونا۔ دنوں کی تپش سے مراد دن کے وقت عشق حقیقی کی تپش میں احکام خداوندی بجا لانا اور شبوں کا گداز سے مراد شب بیداری کے ذریعے بارگاہ خداوندی میں آہ و فغاں کرنا۔ اے مسجد قرطبہ تجھے دیکھ کر بندۂ مومن کی حقیقی شان آشکار ہوتی ہے۔ اس شان کی خصوصیات کیا ہیں؟ یہ کہ مومن دن کے اوقات میں عشقِ حقیقی کے جذبے سے سرشار ہوکر انتہائی سرگرمی اور جانفشانی سے مصروف عمل رہتا ہے۔ خدا کے حکم کی تعمیل کرتا اور کراتا ہے۔ اس کے بندوں کے لئے راحت و آسائش کے سامان بہم پہنچاتا ہے۔ انہیں باطل قوتوں کی ضرر رسانی سے محفوظ رکھتا ہے۔ غرض اس کا سارا وقت ایسے ہی کاموں میں گزر جاتا ہے۔ رات آتی ہے تو وہ خدا سے لو لگا تا ہے، اس کے سامنے روتا ہے، دعائیں کرتا ہے، ہر کام میں خدا ہی سے مدد اور نصرت کے لئے التجا کرتا ہے۔ اور اس طرح اس کے دن رات گزرتے ہیں۔ اے مسجد قرطبہ تو اس کی محنت، مشقت، سرگرمی اور جانفشانی کا ایک زندہ کارنامہ ہے۔ تو اس لیے تعمیر ہوئی کہ مومن رات کے اوقات میں تیرے اندر بیٹھ کر خدا کی بارگاہ میں دعا کرے۔ مسجد قرطبہ کو دیکھ کر یہ راز فاش ہوتا ہے کہ مردانِ خدا میں وہ خدائی صفات کیوں کر پیدا ہوئیں جنہوں نے دنیا کی کایا پلٹ دی؟ وہ راز ہے دن کے وقت اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لیے جوش اور تڑپ یعنی بے انتہا محنت اور رات کو خدا سے لو لگانا، اس کے حضور سربسجود ہونا اور اس سے مدد طلب کرنا تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں فلاح نصیب ہو۔

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Shopping Cart
Scroll to Top