اَز مُحبت چُوں خُودی محکم شود
قُوّتَش فرماندہِ عالَم شَوَد‎
پِیرِ گردوں کز کواکب نقش بَست
غُنچہ ہا از شاخسارِ او شِکست‎
پنجئہ او پنجئہ حق مے شَوَد
ماه ازانگشتِ او شَق مے شَوَد‎
در خصوماتِ جہاں گردَد حَکَم تابعِ فرمانِ او دارا و جَم‎
۞معانئِ الفاظ۞
اَز مُحبت= مُحبت سے
چُوں= جب
محکم= مستحکم، مضبوط
شَوَد= ہوجاتی ہے،
قُوّتَش= اسکی طاقت،
فرماندِہ= حکم دینے والا،
عالَم= دنیا
شَوَد‎=ہوجاتی ہے،ہوجاتا ہے
پِیر= بوڑھا، بزرگ،
گردوں= آسمان
کَزکواکب( کِہ+اَز کَواکب کا مخفف )
کوکب= ستارہ
کواکب=ستارے (کوکب کی جمع)
کزکواکب=ستاروں سے
نقش بَست= نقش باندھا سجایا، سجاوٹ کی،
نقش بَستن= سجاوٹ کرنا، آرائش کرنا
غُنچہ= گچھا
غُنچہ ہا=(جمع) غنچےگچھے
شاخسار=گھنی شاخیں، شاخوں کی لڑیاں
شاخسارِاو= اسکے شاخساروں کی لڑیاں
شِکستن =ٹوٹنا
شِکست=ٹوٹ جاتا ہے
پنجہ=ہاتھ
پنجئہِ او=اسکا ہاتھ
پنجئہِ حق= حق تعالیٰ کاہاتھ
مے شَوَد‎= ہو جاتا ہے، بن جاتا ہے
ماه=چاند،
انگشت=انگلی
ازانگشتِ او= اس کی انگلی سے
شَق شُدن= پھٹ جانا، ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا،
شَق مے شَوَد‎= سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے،
ازانگشتِ او شَق مے شَوَد‎=اس کی انگلی سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے،
خصومات=خصومت کی جمع
خصومت= دشمنی،تنازع، جھگڑا،
درخصوماتِ جہاں= دنیا کی دشمنیوں میں، دنیا کےمعاملات میں، دنیا کے تنازعوں میں
گردَد= ہو جاتا ہے
حَکَم= فیصلہ کرنے والا،مُنصف
تابعِ =ماتحت،تابعدار
فرمان=حکم
تابعِ فرمان=حکم کے تابع
تابعِ فرمانِ او=اسکے حکم کے تابع
دارا= ایران کاقدیم مشہور فرمانروا داریوش
جَم= فارس کا ہی مشہور بادشاہ جمشید
( یہاں مراد ہےبڑے بادشاہ بھی اس کے تابع فرمان ہو جاتے ہیں)
۞اشعارِبالا معہ ترجمہ۞
اَز مُحبت چُوں خُودی محکم شود
قُوّتَش فرماندِہ عالَم شَوَد‎
پِیرِ گردوں کز کواکب نقش بَست
غُنچہ ہا از شاخسارِ او شِکست‎
پنجئہِ او پنجئہِ حق مے شَوَد
ماه ازاُنگشتِ او شَق مے شَوَد‎
در خصوماتِ جہاں گردَد حَکَم
تابعِ فرمانِ او دارا و جَم‎
——–
جب خودی محبتِ حق سے مستحکم ہو جاتی ہے،تو اس کی قوّت عالَم کو حکم دینے والی بن جاتی ہے۔
(یہ) بوڑھا آسمان جس نے ستاروں سے اپنی سجاوٹ کی ہے، اس کے شاخساروں سے (ستاروں کے)غنچےٹوٹ جاتے ہیں۔(یعنی خودی جب مستحکم ہو جاتی ہے تو بد قسمتی کے ستارے ٹوٹ کر گرجاتے ہیں)
اس کا ہاتھﷲ کا ہاتھ ہو جاتا ہے، اُسؐ کی انگلی کےاشارے سے چاندکے ٹکڑے ہو جاتےہیں۔
وہ دنیا کی دشمنیوں میں فیصل (منصف) ہوجاتا ہے،
دارا وجم (جیسے بادشاہ) اس کے حکم کے تابع ہوجاتے ہیں۔
۰۰۰۰۰
حکیمُ الاُمّت ڈاکٹر علّامہ محمد اقبالؒ-
اسرارِ خودی-
در بیان ایں کہ چوں خودی از عشق و محبت محکم مےگردد، قوائے ظاہرہ و مخفیہ نِظامِ عالم را مُسخر مے سازد

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Shopping Cart
Scroll to Top