ڈاکٹر فرمان فتح پوری
اقبال کی طویل نظمیں توضیح و تنقیدی مطالعہ
٭تعارف اور پس منظر:

ابلیس کی مجلس شوریٰ ،آخری طویل نظم ہے جو علامّہ اقبال نے وفات سے دو بر س پہلے ۱۹۳۶ء میں لکھی۔ ۱۸۹۴ء سے‘ جب اقبال نے شعر گوئی کا آغاز کیا‘ان کے افکار و خیالات مسلسل ارتقا پذیر ہوتے رہے۔ زیر مطالعہ نظم میں افکار اقبال کی جلوہ گری کہیں زیادہ صائب‘ صمیم اور پختہ صورت میں نظر آتی ہے۔

’’ ابلیس‘‘ یونانی لفظ diabolosسے بنا ہے۔ d کو حذف کر کے باقی حصے کو معرب کر لیا گیا ۔ معنی ہیں ’ دروغ گو‘ اور ’ فتنہ پرداز‘۔ ابلیس کے ایک لفظی معنی ’ انتہائی مایوس‘ کے بھی ہیں۔

ابلیس کے بارے میں عام طور پر غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ وہ خدا کے برگزیدہ فرشتوں میں سے تھا اور فرشتہ بھی عام یا معمولی نہیں بلکہ معلم الملکوت، مگرقرآنِ حکیم واضح طور پر اس کی تردید کرتا ہے۔ فرمایا:کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ ( سورۃ الکہف: ۵۰)وہ جنوں میں سے تھا اس لیے اپنے رب کے حکم کی اطاعت سے نکل گیا۔

فرشتے ،اللہ تعالیٰ کی نوری مخلوق ہیں مگر ابلیس ناری ہے۔ قرآن پاک میں ہے: خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ (سورہ اعراف: ۱۲)تو نے مجھے ( ابلیس کو ) آگ سے پیدا کیا۔

دوسرے جنات کی طرح ابلیس بھی آگ سے پیدا کیا گیا اور غالباً اسی وجہ سے تکبر و تفاخر اور سر کشی و طغیان ابلیس کی سرشت کابنیادی خاصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور عجز و اطاعت کے بجاے ابلیس نے انحراف و استکبار کا راستہ اختیار کیا ۔ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے میں، شایدآگ سے تخلیق پانے کے سبب، اس کی بنیادی سرشت ’’ سرکشی‘‘ مانع رہی: ئَ اَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا ( سورہ بنی اسرائیل: ۶۱)کیا میں اس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے؟

اس ’’ کفر‘‘ (و کان من الکافرین)کے نتیجے میں وہ ’ شیطان رجیم‘ اور ’شیطان مردود‘ قرار پایا۔اس نے نوع انسانی کو بہکانے اور دل فریبیوں کے ذریعے گمراہ کرنے کی اجازت طلب کی۔ کہنے لگا : یا اللہ! اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں اس [بنی آدم]کی پوری نسل کی بیخ کنی کر ڈالوں۔بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے۔( سورہ بنی اسرائیل:۶۲) اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی۔

یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے ۔ اور وہ یہ کہ قصّۂ آدم و ابلیس کے سلسلے میں دو غلط فہمیاں عام طور پر پائی جاتی ہیں:

(۱) شیطان کے بہکاوے میںآ کر حو ّ ا ؑ نے آدم ؑکو بھی ممنوعہ پھل کھلادیا۔ اس غلط فہمی کی بنیاد بائبل کی ایک روایت پرہے،دنیامیں عورت کے اخلاقی ‘ قانونی اور معاشرتی مرتبے کو گرانے میں اس غلط بیانی کا بڑا حصہ ہے۔ قرآن پاک نے صراحت کے ساتھ اس کی تردیدکی ہے۔ سورۂ اعراف میں ہے کہ ابلیس نے بیک وقت آدم و حو ّا دونوں کو بہکایا۔ پھر سورہ طہٰ میں ہے کہ اس کی وسوسہ اندازی کا اصل رخ آدم کی طرف تھا۔

(۲)دوسری غلط فہمی یہ کہ ممنوعہ پھل کھا کر نافرمانی کا راستہ اختیار کرنے کی پاداش میں‘ آدمؑ کو جنت سے نکال کر دنیا میں بھیج دیا گیا۔ قرآن حکیم وضاحت کرتا ہے کہ جب آدم نے احساسِ ندامت کے سبب ،اللہ سے اپنی لغزش کی معافی طلب کی تو اللہ نے آدم کو معاف کر دیا اور یہ معاملہ یہاں ختم ہوا۔

اب اللہ نے آدم اور حو ّا دونوں کو جنت سے کوچ کر کے‘روے زمین پر جا بسنے کی ہدایت کی (تاکہ نسلِ آدم‘ زمین کو آباد کرے اور خلافت ِ ارضی کے ضمن میں اپنے فرائض انجام دینے کی سعی کرے۔) پس آدم و حو ّا کو بطورِ سزا زمین پر نہیں اتار ا گیا۔ یہ دنیا ان کے لیے دارالعذاب نہ تھی بلکہ آدم کو تو زمین کی خلافت ہی کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔ زمین پر اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنا خلیفہ اور نبی بنا کر بھیجا۔( سورۃ البقرہ: ۳۷۔ ۳۸)

ابلیس‘ اقبال کی شاعری میں ایک اہم کردار ہے۔ اقبال کی اردو اور فارسی شاعری میں بہت سی ایسی نظمیں ملتی ہیں جن کا براہِ راست موضو ع ابلیس ہے ۔ مستقل منظومات کے علاوہ متعدد مقامات پر ابلیس کا تذکرہ ملتا ہے۔ اس سے ابلیس کی جو شخصیت یا حیثیت تشکیل پذیر ہوتی ہے‘ اس کا سب سے اہم پہلو وہی تکبر و سرکشی ہے۔ ( اگر چہ ابلیس اپنے اِستکبار کو مشیّتِ ایزدی قرار دیتا ہے)۔ ضرب کلیم کی نظم ’’ تقدیر ‘‘ میں ہے:

حرفِ استکبار تیرے سامنے ممکن نہ تھا

ہاں مگر تیری مشیّت میں نہ تھا میرا سجود

’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ ۱۹۳۶ء میں لکھی گئی۔ یورپ کی استعماری طاقتوں نے پہلی جنگِ عظیم(۱۹۱۴ئ۔۱۹۸ئ) میں دنیا کو ہولناک تباہی و بربادی سے دو چارکیا تھا۔ اب وہی طاقتیں اپنی جوع الارض کی تسکین کے لیے ایک اور ہولناک جنگ کی تیاریوں میں مصروف تھیں۔ یورپ میں قوم پرستی کا جنون تاریخ کے بد ترین عفریت کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ جرمنی کا آمر مطلق ہٹلر اس گمراہ کن فلسفے کا علمبردار بنا ہوا تھا کہ جرمن دنیا کی بہترین نسل ہے اور غیر جرمنوں کو جرمنوں کا غلام بن کر رہنا چاہیے۔ ہٹلر کی اسلحہ ساز فیکٹریاں دن رات ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف تھیں اورپورا ملک (جرمنی) ایک زبردست جنگی جنون میں مبتلا تھا۔ ہٹلر کے نازی ازم کے مقابلے میں اٹلی کا فاشسٹ آمر مسولینی بھی ،اطالویوں کو کم و بیش انھی خطوط پر لڑائی کے لیے تیاری کر رہا تھا۔ اس نے اگست ۱۹۳۵ء میں حبشہ پر حملہ کر دیا۔ (اقبال کی نظم ’’ابی سینا‘‘ اسی واقعے کی یادگار ہے۔) ادھر اشتراکیت کے اثرات روس سے باہر بھی پھیل چکے تھے اور دنیا میںجگہ جگہ اشتراکیت کے انقلابی اثرات ظاہر ہو رہے تھے۔ دنیا ایک خوفناک جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی ( تین برس بعد ۱۹۳۹ء میں دوسری عالمی جنگ شروع ہو گئی۔)

بیشتر مسلم ممالک پر استعماری طاقتوں کا قبضہ تھا۔ بعض ممالک بظاہر تو آزاد تھے مگر ذہنی اور تہذیبی طور پر وہ بھی مغرب کے مقابلے میں حد درجہ احساسِ کمتری اور شکست خوردگی کا شکار تھے۔ جمہوریہ ترکیہ کے صدر مصطفے ٰ کمال پاشا کے نزدیک تہذیب و ترقی کا تمام تر انحصار مذہب سے انحراف اور کوٹ پتلون اور ہیٹ کی ترویج میں مضمر تھا۔ اسلام کا انقلابی تصوّر‘ مسلم معاشرے کی نگاہوں سے اوجھل ہو چکا تھا۔ مسلمان عجمیّت و قومیّت کے لات و منات کے اسیر تھے۔ غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے عبادات ( نماز ، روزہ، حج ، زکات اورجہاد وغیرہ)بھی ایک ظاہری گورکھ دھندا بن کر رہ گئی تھیں اور ان میں اسلامی روح کا فقدان تھا۔

فکری جائزہ

مجلس شوریٰ کو دورِ جدید کی اصطلاح میں ’’ پارلیمنٹ‘‘ کانام دیا جاسکتا ہے۔ ’’ شوریٰ‘‘ کا تصو ّر قرآن حکیم سے ماخوذ ہے۔ فرمایا:وَ اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ ( سورۃ الشورٰی: ۳۸)وہ اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں۔

دنیا کے مختلف نظاموں کی طر ح، ابلیسیّت کو بھی ایک مستقل نظام کی حیثیت حاصل ہے۔ اس نظام فکر کا سرچشمہ ابلیس کی ذات ہے۔ یہ نظام محض’’ فکر‘‘ تک محدود نہیں ‘ بلکہ دنیا کو اپنے فکر کے تابع رکھنے اور عملاً اپنے فکر کے فروغ و ترویج کے لیے ابلیس نے سیادت و حکمرانی کے اصول و قوانین وضع کر رکھے ہیں۔ اس کے ’’ مشیر‘‘ ابلیسی نظامِ حکومت کے صاحبِ راے ارکانِ حکومت میں شمار ہوتے ہیں۔ ابلیسی نظام حکومت کی پارلیمنٹ محض مشیروں پر مشتمل ہے۔ ابلیس اپنی حکمت عملی اور طریقۂ واردات (strategy) وضع کرنے کے لیے وقتافوقتاً اپنی پارلیمنٹ کا اجلا س منعقد کرتا اور اپنے مشیروں کو اپنی پالیسیوں کے مصالح سے آگاہ کرتا ہے تاکہ وہ پورے شرحِ صد ر اور دل جمعی کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرتے رہیں۔

زیر مطالعہ نظم در حقیقت ابلیسی پارلیمنٹ کے ایک اجلاس کی روداد پر مشتمل ہے جس میں ابلیسی نظام حکومت کو در پیش مسائل پر مباحثہ ہوتا ہے اور دنیا کی سیاسی و تہذیبی صورت حال‘ خاص طور پر مسلمان معاشرے کی موجودہ کیفیت زیر بحث آتی ہے اور اس کی روشنی میں ابلیس اپنے مشیروں کی مدد سے اپنے مستقبل کا لائحہ عمل متعیّن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نظم کا تفصیلی مطالعہ ہم درج ذیل عنوات کے تحت کریں گے:

۱۔ ابلیس کے کارنامے( ابلیس کا افتتاحی خطاب)

۲۔ امت ِ مسلمہ کا نوحہ ( ابلیسی نظام کی کرامات)

۳۔ ابلیسی نظام کے لیے اصل خطرہ؟ (جمہوریت؟ اشتراکیت؟ یا اسلام؟)

۴۔ اسلامی نظام کی انفرادیت

۵۔ مستقبل کے لیے ابلیسی حکمت عملی

٭ابلیس کے کارنامے:

ابلیسی پارلیمنٹ کا آغاز ابلیس کے افتتاحی خطاب سے ہوتا ہے۔ اس افتتاحی تقریر میں اس کا اِدّعائی لہجہ بہت نمایاں ہے۔ ’’ حرفِ استکبار‘‘ کی پاداش میں بارگاہِ خداوندی سے مردود قرار دیے جانے کے بعد‘ ابلیس کو دنیا میں ضلالت و گمراہی پھیلانے کی مہلت ملی تھی۔ اس موقع پر اس نے عہد کیا تھا:

فَبِعِزَّتِکَ لَاَغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ(سورہ ص ٓ: ۸۲)(اے رب) تیری عزت کی قسم میں ان سب لوگوں کو بہکا کر رہوں گا۔

وَ لَاُ ضِلَّنَّہُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّہُمْ وَ لَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ( سورۃ النسائ: ۱۱۹) میں انھیں بہکاؤں گا ۔ میں انھیں آرزؤں میں الجھاؤںگا۔ میں انھیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اورمیں انھیں حکم دوں گااور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردّو بدل کریں گے۔

افتتاحی خطاب کو ابلیس کے متذکرہ بالا عزم صمیم کے پس منظر میں دیکھیے تواندازہ ہو گا کہ اس کا اِدّعائی لہجہ ‘ کامل خود اعتمادی اور کامیابی و سرفرازی سے چھلک رہا ہے۔ ابلیس کے ’’میں ‘‘ کا آہنگ دو وجوہ سے بلند ہے:

اول: اللہ تعالیٰ نے آدم کو زمین پر اپنا خلیفہ اور نائب بنا کر بھیجا تھا مگر آدم نیابتِ الہٰی کے فریضے سے کامیابی کے ساتھ عہدہ برآ نہیں ہو سکا۔ دنیا میں ہر طرف فتنہ و فساد برپا ہے اور ظلم و ستم کی گرم بازاری ہے۔ چنانچہ خود’’ کارساز‘‘ ( اللہ تعالیٰ) کائنات کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ یہاں ابلیس طنزیہ انداز میں اللہ تعالیٰ( جسے وہ اپنا مدّ ِمقابل سمجھتا ہے) کی بالواسطہ شکست کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

دوم : منظقی طور پر ابلیس اسے اپنی کامرانی سمجھتا ہے اور اس کے ثبوت میں وہ اپنے متعدد ’’ کارنامے ‘‘ گنواتا ہے‘ مثلاً:

الف: یورپی استعمار کا فروغ: یہ وہ دور تھا جب ایشیا ‘ افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ بالواسطہ یا بلا واسطہ فرنگی استعمار کے نو آبادیاتی پنجوں میں جکڑا ہوا تھا۔

ب: مذہب کی بالادستی کا خاتمہ: مشرق و مغرب میں فرد اور معاشرے پر مذہب کی مضبوط گرفت ختم ہو گئی تھی۔ یورپ میں مارٹن لوتھر کی تحریک اصلاح مذہب (Reformation) نے مسیحی کلیسا کی روایتی بالادستی پر کاری ضرب لگائی:

کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے

پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو

ادھر مسلم دنیا میں قوم پرستی اور دین و دنیا کی علاحدگی کے تصو ّرات کی وجہ سے’’ ایک مکمل ضابطۂ حیات‘‘ کے بجاے اسلام ‘ ذاتی زندگی میں ایک ’’ مذہب ‘‘ تک محدود ہو کر رہ گیا ۔

ج : تقدیر پرستی کی افیون: ابلیس نے مجبور و مظلوم لوگوں کو تقدیر پرستی کا سبق دے کر، انھیں اپنی حالت ِ زار پر قانع رہنے کا سبق دیا ہے:

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلادیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری

کرشمۂ ساحری انجام دینے میں، ابلیس استعماری حکمرانوں کے ایجنٹ کا فریضہ انجام دیتا ہے۔

د: سرمایہ داری کا تسلّط: دنیا پر سرمایہ داری کا ظالمانہ نظام مسلّط کرنے میں بھی ابلیس کا ہاتھ ہے ۔ وہ سرمایہ داروںکو عوام کا خون چوسنے اور مزدوروں کے استحصال کے ذریعے زراندوزی کے نت نئے طریقے سکھاتا ہے۔ اس طرح سرمایہ دار آکاس بیل کی طرح دنیا کی معیشت پر مسلط ہے۔

افتتاحی تقریر کے آخری دو شعروں میں، ابلیس کے اِدّعائی لہجے میں مزید تیقن و تفاخر پیدا ہو جاتا ہے۔ یہاں ابلیس چیلنج دے رہا ہے کہ ابلیسی نظام کے’’ نخلِ کہن ‘‘ کو دنیا کی کوئی طاقت بھی سرنگوں نہیں کر سکتی کیونکہ اس کی شاخیں ( سرمایہ داری‘ یورپی استعماریت‘ تقدیر پرستی ‘ مذہب کا خاتمہ) ہماری کوششوں کی وجہ سے سربلند و سرفراز ہیں۔ اپنے مشیروں اور پیروکاروں کے سامنے ابلیسیّت کو ایک غالب و قاہر نظام کی حیثیت سے پیش کرتے ہوئے‘ ابلیس انھیں خود اعتمادی کا درس دے رہا ہے ۔درس یہ ہے کہ میری بھڑکائی ہوئی آتشِ سوزاں (ملوکیت‘ اشتراکیت‘ استعماریت‘ تقدیر پرستی‘ سرمایہ داری ‘ فتنہ و فساد‘ ظلم و استحصال‘ جنگوں کی ہلاکت خیزیوں وغیرہ) کے مقابلے میں دنیا کے مصلحین اور مذہب پرستوں کی کوششیں بے کار ہیں ۔ لہٰذا‘ اے میرے مشیرو! تم پورے اطمینان کے ساتھ مصروفِ عمل رہو‘ مستقبل تمھاراہے۔

٭امت ِ مسلمہ کا نوحہ:

اب پہلا مشیر تقریر کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ وہ ابلیس کے ’’ افکارِ عالیہ‘‘ کی صد فی صد تائید کرتے ہوئے ،پیرو مرشد کے کارناموں کو مزید تفصیل و توضیح کے ساتھ اور زیادہ بلند آہنگی سے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرتا ہے۔ یوں تو ابلیس کے کارناموں کا دائرہ بہت وسیع ہے مگر پہلا مشیر بطورِ خاص، امت ِ مسلمہ کو گمراہی کے راستے پر ڈالنے کے ضمن میں ابلیس کی ’’کرامات ‘‘ کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔( اسے ہم پہلے مشیر اور بحیثیت مجموعی ابلیسی ذہنیت کی نفسیاتی کمزور ی بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ ابلیسیّت کی کامیابی میں سب سے زیادہ مزاحمت اسلام ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔)

پہلے مشیر کی زبانی علامّہ اقبال نے مسلمانوں کی ذہنیت پر شدید تنقید کی ہے۔ تنقید کا انداز وہی ہے جو اس سے پہلے متعدد طویل نظموں خصوصاً ’شکوہ‘ ،’ جوابِ شکوہ‘ میں موجود ہے۔ یہاں حضرتِ علامّہ نے مسلمانوں کو زوال و انحطاط کے چند بنیادی اسباب و علل کی طرف متوجّہ کیا ہے۔

ا: غلامانہ ذہنیت: صدیوں کی سیاسی غلامی نے مسلمانوں کی آزاد فطرت کو مسخ کرکے انھیں فرنگیوں کا ذہنی غلام بنا دیا ہے۔ تمدن و معاشرت ‘ تعلیم و اقتصاد اور زبان و آداب میں انھوں نے فرنگیوں کی اطاعت کا قلاوہ خود اپنی گردن میں ڈال رکھا ہے۔ ’’خوے غلامی‘‘ نے ان کی حریت ِ فکر چھین لی ہے۔

ب: روحِ عبادات کا خاتمہ: مسلم معاشرے میں مذہب کے ظاہری ارکان ( نماز‘ روزہ‘ حج وغیرہ) کی پابندی کا اہتمام تو کچھ نہ کچھ موجود ہے مگر عبادات کی روح ختم ہوچکی ہے:

تیرا امام بے حضور‘ تیری نماز بے سرور

اذان تک ایک رسم بن کر رہ گئی ہے:

رہ گئی رسم اذاں، روحِ بلالی نہ رہی

دنیا کے لاکھوں مسلمان ہر سال حج بیت اللہ ادا کرتے ہیں مگر، الّا ما شاء اللہ بہت کم حاجیوں کی ذہنیت میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے اور ان کے کردار میں کوئی انقلاب برپا ہوتا ہے۔ مسلم عوام کو اس افسوس ناک حالت سے قطعِ نظر، ان کے مذہبی رہنماؤں( صوفی و ملا) کی حالت اور بھی پست ہے۔ ’’ انبیا کے وارث‘‘ ہونے کے ناتے سے عوام کے اندر دین کی حقیقی روح خصوصاً اسلام کی انقلابی سپرٹ تازہ کرنا اور اس کے فروغ کے لیے کوشاں رہنا ان کی بنیادی ذمّے داری تھی مگر یہ خود دامِ ملوکیت کے اسیر ہو چکے ہیں۔ آخری دو شعروں میں : ’’کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغ بے نیام‘‘ اور: ’’ہے جہاد اس دور میں مردِ مسلماں پرحرام‘‘ کا اشارہ سرسید مرحوم اور مولوی چراغ علی وغیرہ کے تصو ّرِ تنسیخِ جہادکی طرف ہے۔ اس تصو ّر نے مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاں( قادیانی تحریک کے ایک بنیادی اصول کے طور پر ) نسبتاً واضح اور پختہ نظریے کی شکل اختیار کی۔ سرسید مرحوم اپنی قوم کے بے حد مخلص راہ نماتھے۔ انھوں نے حالات کے تقاضوں کے مطابق اور انگریزوں سے مفاہمت کی خاطر مناسب سمجھا کہ جہاد کو منسوخ قرار دیا جائے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ جہاد کے بغیر اسلام ایک انقلابی نظریے کے بجاے رہبانیت بن کر رہ جاتا ہے جسے اقبال نے ’’ روباہی‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔

ج: تصو ّف کے منفی اثرات: اسلام کی انقلابی سپرٹ کو عجمی تصو ّف اور علم کلام کی موشگافیوں سے بھی خاصا نقصان پہنچاٖ ۔ علامّہ اقبال نے عجمی تصو ّف (رائج الوقت تصو ّف)کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت میں بہت کچھ کہا ہے۔ یہاں وہ اسے ’’افیون‘‘ قرار دیتے ہیں ۔ ’’ علم کلام‘‘ کاتعلق چونکہ زندگی کے غیر عملی ‘ خیالی اور تخیّلاتی مسائل سے ہے‘ اس لیے اقبال کے نزدیک یہ بھی ’’ قوالی ‘‘ کی طرح ایک قسم کا نشہ ہے۔ ’’قوالی‘‘ یہاں علامت ہے ‘ بے عملی‘ کاہلی اور تحریک کے بالمقابل جمودو سکون کی۔

آخری شعر میں ابلیس کے پہلے مشیر کا طنزیہ لہجہ توجّہ چاہتا ہے۔ وہ باور کرانا چاہتا ہے کہ تصو ّر جہاد کی تنسیخ سے‘ اسلام ابلیسیّت کے مقابلے میں اپنی پسپائی و شکست کا اعتراف کررہاہے۔ یوں ابلیس کے افتتاحی خطاب کی طرح پہلے مشیر کی تقریر بھی دنیا میں ابلیسیّت کی سر بلندی اور غلبے کا اعلان ہے۔

٭ابلیسی نظام کے لیے حقیقی خطرہ؟

یہ بات تو ابلیس اور اس کی پارلیمنٹ کے لیے وجہ اطمینان ہے کہ مسلمانوں میں روح حریت و جہاد ختم ہو چکی ہے اور وہ مو جودہ عالمی سیاست پر اثرا نداز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے، تاہم دوسرا مشیر پہلے مشیر کو سیاسیاتِ حاضرہ کے ایک تازہ فتنے (جمہوریت) کی طرف متوجّہ کرتا ہے کہ ابلیسی نظام کے مستقبل کے لیے ’ جمہوریت‘ تو ’’شر‘‘ ثابت نہ ہوگی؟

دوسرے مشیر کا استفسار ایک طرح سے’’ نکتۂ وضاحت‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔

ا: جمہوریت: جواباُ پہلا مشیر جمہوریت کی ماہیت پر روشنی ڈالتا ہے۔ جمہوریت کے بارے میں علامّہ اقبال کے نظریات بہت واضح ہیں۔ وہ جمہوریت کے بعض اچھے پہلوؤں کے معترف ہیں مگر مجموعی طور پر وہ اس کو ’’ ملوکیت کا ایک پردہ‘‘ سمجھتے ہیں۔ ’’ خضر راہ ‘‘ میں وہ جمہوریت کہ ایک ’’ دیو استبداد‘‘ قرار دے کر کہہ چکے ہیں:

ہے وہی سازِ کہن‘ مغرب کا جمہوری نظام

جس کے پردوں میں نہیں غیر از نواے قیصری

یہاں وہ پہلے مشیر کی زبان سے کہلواتے ہیں کہ جمہوریت بھی ملوکیت ہی کا ایک روپ ہے۔ چونکہ عوام کسی قدر خود شناس ہو چکے ہیں اور بادشاہت کو ناپسند کر نے لگے ہیں ‘اس لیے ہم (ابلیسی سیاست) نے ملوکیت کو جمہوری لباس پہنا دیا ہے۔’’ کاروبار شہریاری ‘‘ ہی نے مغرب میں ’’ جمہوری نظام‘‘ کی شکل اختیار کر لی ہے‘ مگر اس کی روحِ باطنی، چنگیزیت سے لبریز ہے۔ یعنی: قتل و غارت‘ نو آبادیاتی تسلط اور کمزور قوموں کا معاشی استحصال۔ یہ امر قابلِ غور ہے کہ مغرب کے سرمایہ دارانہ ممالک کے علاوہ دنیا کے سوشلسٹ ممالک بھی خود کو ’’جمہوری‘‘ کہتے ہیں۔ ’’ یونائیٹڈ سوویٹ سوشلسٹ ری پبلک‘‘ (U.S.S.R.)ان کا سب سے بڑا علمبردار تھا۔ یہ ممالک جس نوع کی ’’ ری پبلک ‘‘ ہیں‘ وہ محتاج وضاحت نہیں۔ اسی لیے علامّہ اقبال نے ان سارے نام نہاد ’جمہوری‘ نظام ہاے حکومت کو ’چنگیزیت‘ قرار دیا ہے۔ جمہوریت کے بارے میں ان کایہ شعر ایک قولِ فیصل کی حیثیت رکھتا ہے :

تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام

چہرہ روشن ‘ اندروں چنگیز سے تاریک تر

[جمہوریت کے سلسلے میں نظم ’’خضر راہ‘‘ کی ضمنی بحث،یہ عنوان: ’’جمہوریت‘‘ بھی دیکھیے۔]

ب: اشتراکیت: اس موقع پر تیسرا مشیر کھڑا ہوتا ہے۔ وہ بھی اس خیال کا مؤید ہے کہ ایسا جمہوری نظام ( جس میں روح ملوکیت کارفرما ہو) ہمارے لیے کسی خطرے کا باعث نہیں ہو سکتا،تاہم و ہ پارلیمنٹ کی توجّہ اشتراکیت کی اس تحریک کی طرف مبذول کراتا ہے جومارکس کی سریع الاثر اور مقبولِ عام تعلیمات کی وجہ سے نہایت تیزی کے ساتھ دنیامیں پھیل رہی ہے۔ اس شعر سے :

وہ کلیمِ بے تجلّی ‘ وہ مسیحِ بے صلیب

نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب

یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ کارل مارکس ( ۱۸۱۸ئ- ۱۸۸۳ئ) کو اس کے پیروکاروں کے نزدیک ویسا ہی بلند مقام حاصل ہے جو یہودیوں کے نزدیک حضرت موسیٰ ؑ یا عیسائیوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ ؑ کا ہو سکتا ہے۔ مزید برآں اس کی کتاب ’’ سرمایہ ‘‘ (Das Capital) اشتراکیوں کے لیے ’’ توریت‘‘ یا انجیل کی طرح مقدس ہے۔ ’’ یہودی کی شرارت کا جواب‘‘ او ر’’ طبیعت کا فساد ‘‘ کی تراکیب سے علامّہ اقبال نے اشتراکیت کے منفی رول کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہودیوں کی فتنہ انگیزیوں اور ان کے سازشی ذہن کونگاہ میں رکھیے تو یہاں لفظ ’’ یہودی‘‘ معنی خیز ہے۔

تیسرے مشیر کی گفتگو ایک طرح کا سوال ہے کہ عالمی افق پراشتراکی قو ّت ‘ ابلیسی نظام کے لیے باعث خطرہ تو نہ بن جائے گی؟

چوتھے مشیر کے خیال میں مسولینی کی فسطائی تحریک‘ اشتراکیت کاتوڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ (فاشزم ‘ قدیم قیصریت کے احیا کی تحریک تھی جس کا مقصد روم کی قدیم سلطنت کا دوبارہ قیام تھا۔ اٹلی کا حکمران مسولینی فاشزم کا راہ نما تھا۔) مگر تیسرا مشیرا س جواب سے مطمئن نہیں ہے کیونکہ فاشزم کی عاقبت نا اندیشی کے سبب افرنگی سیاست کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ یہ اشارہ ہے حبشہ پر مسولینی کے حملے ( اگست ۱۹۳۵ئ) کی طرف۔ اس جارحانہ اقدام سے مسولینی خاصا بدنام ہوا۔ دیگر یورپی استعمار پرستوں نے اطالوی جارحیت کی مذمت کی مگر مسولینی نے یہ کہہ کر کہ :

میرے سوداے ملوکیت کو ٹھکراتے ہو تم

تم نے کیا توڑے نہیں کمزور قوموں کے زجاج

پردۂ تہذیب میں غارت گری‘ آدم کشی

کل روا رکھی تھی تم نے ‘ میں روا رکھتا ہوں آج

انھیں آئینہ دکھایا اور ان کا منہ بند کر دیا۔

پانچواں مشیر تقریر کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔وہ اپنے پیر و مرشد کو اس کی غیرمعمولی صلاحیتوں پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ اس کے نزدیک ابلیس‘ انسان‘ فرشتوں اور اللہ تعالیٰ تینوںکے مقابلے میں برتر و افضل ہے کیونکہ:

۱:آدم کو ابلیس ہی نے حکمت و دانائی کی تعلیم دی۔’ ابلہِ جنت‘ اور’ سادہ دل بندوں‘ کی تراکیب سے ابلیس کے مقابلے میں انسان کی حقارت ظاہر کرنا مقصود ہے۔

۲۔ فرشتے تو بلا چون و چرا آدم کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے مگر ابلیس کی ’ غیرت‘ نے اس’ ذلت‘کو گوارا نہیں کیا ۔ فرشتے آج تک ابلیس کے فعل پر شرمسار ہیں۔

۳۔ انسانی سرشت کیا ہے؟ اس کی طبعی کمزوریا ں کیا ہیں؟ اس سے ابلیس بھی اتناہی واقف ہے جتنا کہ خود پروردگارعالم۔ اسی لیے وہ انسان کی طبعی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثر و بیشتر اسے گمراہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

۴۔پھر یہ بھی ابلیس کا ’ کارنامہ ‘ ہے کہ یورپ کے تمام سیاست دان ( افرنگ کے ساحر) اس کے پیرو کار ہیں۔ تاہم پانچویں مشیر کے خیال میں ان کی سیاسی بصیرت لائقِ اعتنا نہیں کیونکہ سرمایہ داروں‘ جاگیرداروں اور بادشاہوں نے تاحال اشتراکی خطرے کی فتنہ انگیزی اور ہلاکت خیزی کا اندازہ نہیں لگایا‘ یعنی کارل مارکس کے افکار کو یورپی حکومتوں اور سیاست دانوں نے کوئی اہمیت نہیں دی ۔ بظاہر اس کی عسرت بھری زندگی ناکامی پر منتج ہوئی اور کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ یہ ’’ مشت ِ غبار‘‘ ۱۹۱۷ء میں روسی افق پر ایک عظیم انقلاب بن کر نمودار ہوگا۔ اور پھر انقلاب کی یہ لہر دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے دوسرے ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ( ۱۹۳۶ء تک دنیا کے متعدد ممالک میں کمیونسٹ تحریک کو خاصا فروغ ملا تھا۔ اور اسی کے زیر اثر عین انھی دنوں ہندستان میں ادب کی ترقی پسند تحریک کی بنیادرکھی گئی۔) اپنی غیر معمولی بصیرت کی بنا پر علامّہ اقبال کے لیے جاگیردارانہ جبریّت اور سرمایہ دارانہ مظالم کے شدیدردّ ِ عمل کا اندازہ مشکل نہ تھا ۔ ( دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ و ایشیا اور بعد ازاں افریقہ میں وسیع پیمانے پر اشتراکی اثرات کا فروغ اس پرشاہد ہے۔)اسی حقیقت کے پیش نظر انھوں نے کمیونزم کے لیے ’’ فتنۂ فردا‘‘ ( اور مارکس کے لیے ’’ فتنہ گر‘‘) کی تراکیب استعمال کی ہیں۔

’’ روحِ مزدک کا بروز‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ مارکس کی شخصیت مزدک ہی کی خصوصیات و صفات کے ساتھ اس کی ایک علامت (symbol) ہے۔(خیال ہے کہ مزدک قدیم ایران کا باشندہ اورعلامّہ اقبال کے الفاظ میں ’’اشتراکیت کا پہلا پیغمبر‘‘ تھا۔ اس کی تعلیم یہ تھی کہ تمام انسان مساوی ہیں اور تمام چیزیں اجتماعی ملکیت میں ہونی چاہییں۔ نوشیروانِ عادل نے اسے قتل کر کے اس کے پیروکاروں کا قلع قمع کر دیا تھا) چنانچہ زیر مطالعہ نظم میں جہاں جہاں اشتراکی لیڈروں اور اشتراکیت کا ذکر آیا ہے، اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اشتراکیت کی’ فتنہ گری‘ ایک ’ یہودی‘ کی ’ شرارت‘ ہے جس کا مقصد ہر قبا کو تارتار کرکے روے زمین پر ’فساد‘ برپا کرنا ہے۔

اقبال کے ہاں اشتراکیت کے منفی رول(لا)کی تائیدمیں ایک اعتبارسے تحسینی انداز بھی ملتا ہے مگر بحیثیت مجموعی وہ مثبت اور تعمیری اندازِ فکر (الّا) سے مبرا ہے اس لیے حضرت علامّہ اشتراکیت کو بھی دورِ حاضر کے دوسرے فتنوں ( جمہوریت ‘سرمایہ داری ‘ فسطائیت)کی طرح ناقابلِ قبول قرار دیتے ہیں۔ آگے چل کر اقبال نے اشتراکیوں کا ذکر ( بزبانِ ابلیس) اس طرح کیاہے:

کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد

یہ پریشاں روزگار‘ آشفتہ مغز‘ آشفتہ ہو

یہاں اقبال کا لہجہ حقارت آمیز ہے۔ اس شوسے اشتراکیت کی بے وقعتی ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں علامّہ اقبال کی دور اندیشی بصیرت اور مستقبل شناسی کا اعتراف کر نا چاہیے کہ عالم انسانیت کے لیے اشتراکیت،مستقبل کا خطرہ نہیں تھی۔ ۷۲‘۷۳ سال ہی گزرے تھے کہ اشتراکی روس کی استعماری امپائر ختم ہو گئی۔

ابلیسی مشیروں کو رہ رہ کر اشتراکی خطرے کا احساس ہوتا ہے ۔ بہرحال وہ ابلیس جیسی بصیرت کے مالک نہیں، اس لیے مضطرب ہیں کہ ابلیسی نظام کو اشتراکیت سے زبردست خطرہ لاحق ہے ۔ اس کا شدید احساس پانچویں مشیر کی تقریر کے آخری حصے سے ہوتا ہے:

میرے آقا ‘ وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے

جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار

اس سے یہ اندازہ بھی ہوتاہے کہ مشیران ابلیس کے لیے ہر مشکل وقت میں اپنے پیر و مرشد سے رجوع کرنے کے سوا چارہ نہیں۔ متذکرہ بالا شعر، پانچویں مشیر کی طرف سے ابلیس کے حضور ایک اہم سوال ہے۔

اس موقع پر ابلیس ایک بار پھر پارلیمنٹ کے اسٹیج پر نمودار ہو کر تقریر کا آغاز کرتا ہے ۔ اس تقریر میں وہ مشیروں کے سوالات اور ان کے ذہنی خدشات کا جواب دیتا ہے۔ وہ انھیں بتاتا ہے کہ ابلیسی نظام کے لیے حقیقی خطرہ کیا ہے اور اس خطرے سے نبرد آزما ہونے کے لیے مستقبل میں ابلیسی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟

کسی تحریک کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے کارکن اپنے لیڈر کی قائدانہ صلاحیتوں پر عین الیقین کی حد تک ایمان رکھتے ہوں‘ ورنہ وہ شرح صدر کے ساتھ کام نہیں کرسکتے۔ ابلیس اپنی ساحرانہ شخصیت کا نقش اپنے مشیروں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کے لیے سب سے پہلے اپنے ’’ دست ِتصر ّف‘‘ اور ’’ ایک ہو‘‘ کا ذکر کرتا ہے۔یہاں ابلیس خود کو ایک ایسی غیر معمولی شخصیت کے روپ میں پیش کرتا ہے جسے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہی نہیں ‘ ناز بھی ہے۔ کرہ ٔ ارض اس کے لیے جادو کی چھڑی پر گھومنے والی گیند کی مانند ہے۔ وہ اہل مذہب اور اہل سیاست کو بیک وقت اپنی انگلیوں پر نچاسکتا ہے۔ فکر ابلیس کی پروردہ تہذیب ِ مغرب ‘ عصر حاضر کی ایک زبردست قو ّت ہے ۔ اگر کوئی اس تہذیب کو ختم کرنے کے درپے ہے تو ابلیس کا چیلنج ہے کہ وہ اس غلط فہمی کو اپنے ذہن سے نکال دے۔

اس طرح اپنے مشیروں کو نفسیاتی طور پر مرعوب کرنے کے بعد ‘ ابلیس تیسرے اور پانچویں مشیر کے اس خدشے کو نہایت تیقّن و اعتماد کے ساتھ اور بڑے دوٹوک انداز میں رد کردیتا ہے کہ اشتراکیت، ابلیسیّت کے لیے باعثِ فتنہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ افراد کے اندر ان کی وہبی صلاحیتوں کی بنا پر، ان کے ماحول کے نتیجے میں اور ان کے اکتسابات کے لحاظ سے ،جو فرق اور امتیازپایا جاتا ہے ( بہادر اوربزدل‘ ذہین اور غبی‘ طاقتور اور کمزور‘ امیر اور غریب وغیرہ) یہ فطرت کی طرف سے ایک گہری اور منظم منصوبہ بندی کے تحت ہے۔ ان مسائل کو اشتراکیت ( مزدکی منطق) کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا ۱؎ ۔ بالفاظ دیگر مدارج و امتیازات نظام فطرت کا منطقی نتیجہ ہیں۔ ان اختلافات اوردرجہ بندی کو ختم کرکے’’ مساواتِ کامل ‘‘قائم کرنا خام خیالی ہے۔اشتراکیت کی مساوات کے برعکس اسلام ’’عدل ‘‘ کا قائل ہے۔یعنی مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد کو برابر سمجھ کر انھیں مساوی حقوق دینے کے بجاے، ان کی صلاحیتوں کے مطابق عادلانہ طریقے سے ان کی ضروریات کی تکمیل کی جائے۔ ابلیسی مشیروں کے دل میں اشتراکیت کا خوف جڑ پکڑ چکا ہے‘ اسے ان کے دلوںسے نکال دینے بلکہ بالکل ہی کھرچ دینے کے لیے ابلیس:

کب ڈراسکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد

یہ پریشاں روزگار‘ آشفتہ مغز‘ آشفتہ ہو ۲؎

کہہ کر یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ میرے نزدیک ان کی حیثیت پرکاہ کے برابر بھی نہیں ہے۔ اس شعر میں اشتراکیوں کے بارے میں ابلیس کا لہجہ خاصا تحقیر آمیز ہے۔ مشیروں کے لیے ’کوچہ گرد‘، ’پریشاں روزگار‘ اور ’آشفتہ مغز‘ کی تراکیب توجّہ طلب ہیں۔ ابلیس کے ہاں اشتراکی تحریک کی تمام تر انقلابی قو ّت کا جواب فقط ایک خندۂ استہزا ہے۔

مشیروں کو اشتراکیت کی طرف سے اطمینان دلانے کے بعد‘ ابلیس اصل خطرے کی نشان دہی کرتا ہے‘ اور وہ خطرہ ہے، اسلام‘ جو ابلیسیّت کا حقیقی مد مقابل بن سکتا ہے۔

پہلے مشیر نے وضاحت کی تھی کہ امت ِ مسلمہ کو صدیوں کی غلامی نے عضو ِ معطل بنا کر رکھ دیا ہے تو اب سوال یہ ہے کہ غلامانہ ذہنیت‘ جامد خیالات اور بے روح عبادات کی حامل قوم دنیا کے مستقبل پر کیوںکر اثرانداز ہوگی؟

ابلیس وضاحت کرتا ہے کہ مسلمان قرآنی تعلیمات سے انحراف کرتے ہوئے سرمایہ پرستی کو اپنادین قرار دے چکے ہیں اور ان کے مذہبی راہ نما اسلام کی روحانی قو ّت سے تہی دامن ہو چکے ہیں۔ تاہم تمام تر غلط اندیشیوں اور کج رویوں کے باوجود‘ ان کے اندر ایمان کی چنگاری موجود ہے:

جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو

فاطمہ بنت عبداللہ کے بارے میں اقبال نے کہا ہے: ’’ایسی چنگاری بھی یار ب ‘ اپنی خاکستر میں تھی‘‘گویا حضرت علامّہ امت ِ مسلمہ کے مستقبل سے مایوس نہ تھے:

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

اور تاریخ شاہد ہے کہ یہ ’’ شرار‘‘ وقتاً فوقتاً بھڑک اٹھتا ہے۔ تحریک پاکستان میں ’’ پاکستان کا مطلب کیا:’’ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ‘‘ مسلمانانِ ہند کا نعرہ بناتھا۔ ۱۹۶۵ء میں بھارت کے ساتھ جنگ میں ایمان ہی کی چنگاری نے پاکستانی افواج اور عوام کے دلوں میں ایک جوشِ جہاداور جذبۂ شجاعت کا الائو روشن کیا تھا۔ ۱۹۷۷ء میں اسی ’’ شرار ‘‘ نے تحریک نظام مصطفی کی شکل اختیار کی۔دوسری طرف عصر حاضر ایک ایسے نظام حیات کا متلاشی ہے جو اس کے جملہ پیچیدہ مسائل کو حل کر سکے اور یہ حل اسے صرف( شرع پیغمبر اسلامؐ) میں نظر آتا ہے ۔ گویا ان دو وجوہ سے:

اول: مسلمانوں کے ہاں ایمان کی دبی ہوئی چنگاری موجود ہے جو بوقت ضرورت شعلۂ جوالہ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ دوم: دورِ حاضر تمام مادّی نظریات سے بیزار ہو کر‘ اسلام جیسے روحانی نظام کا متقاضی ہے۔) ابلیس کو مستقبل میں اسلامی غلبے کا زبردست خدشہ ہے۔ چنانچہ وہ مشیروں کو خبردار کرتا ہے کہ اسلام ایسے جامع نظریۂ حیات سے ہوشیار رہو کیونکہ اس کی سادہ تعلیمات میں بعض ایسی خوبیاں موجود ہیں جو اس کی مقبولیت کا سبب بن سکتی ہیں۔ ابلیس کی نظر میں اسلام کی انفرادیت اس میں ہے کہ :

۱۔ اسلام انسانیت کے نصف بہتر‘ عورت کی عصمت و ناموس کا محافظ ہے۔

۲۔ شریعت محمدیہؐ انسانوں کو جرأت و شجاعت اور جواں مردی کا سبق دیتی ہے۔

۳۔ اسلام ‘ غلامی کی لعنت کو ختم کر تا ہے۔ اس میں نہ تو تمیز بندہ و آقا کی گنجایش ہے اور نہ شہنشاہیت و ملوکیت کی :

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

۴۔ معاشی مسائل کا خاطر خواہ حل اسلام کے پاس ہے۔ اس نے زر پرستی کو ختم کرکے دولت کے حصول اور انفاق کی حدو د متعیّن کر دی ہیں۔ زکات فرض کر دی اور صدقات پر اکسایا ہے تاکہ دولت گردش میں رہے:

کس نہ گردد در جہاں‘ محتاج کس

نکتۂ شرع مبیں این است و بس

یعنی شریعت محمدیہؐ کی غرض و غایت یہ ہے کہ دنیا میں کوئی شخص کسی دوسرے کا محتاج نہ رہے۔

۵۔ اسلام ’’بادشاہوں کے آسمانی حقوق‘‘ (divine rights of kings)کے نظریے پر کاری ضرب لگا کر اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ کا نظریہ پیش کرتا ہے جس کی رو سے کائنات کی ہر شے کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ کائنات میں حاکمیت بھی اسی کی ہے اور ہر شے ملکیت بھی اسی کی ہے:

سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے

حکمراں ہے اک وہی‘ باقی بتانِ آزری

ابلیس ،اور اس کے مشیروں کے لیے، ایسی پاکیزہ اور سادہ تعلیمات کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔ یہ غنیمت ہے ،اور ابلیس کے لیے یہ امر باعث اطمینان ہے ،کہ مومن ‘ اسلام کی روحانی قو ّت کی افادیت و اہمیت سے ناواقف اور غافل( محرومِ یقین) ہے۔ تاہم اس متوقع خطرے سے غفلت برتنا حماقت ہوگی۔ لہٰذا ابلیس اپنی حکمت عملی وضع کرتا ہے۔

٭ابلیس کی حکمت ِ عملی:

ابلیس مشیروں کو تلقین کرتا ہے کہ مسلمان غفلت و مدہوشی کی جس حالت میں گرفتار ہے بدستور اس میں مست رہے تو بہتر ہے۔ ایمانیات کے بجاے ’فروعات ‘اور ’محکمات ‘کے بجاے ’متشابہات‘ ہی میں الجھارہے ۔قرآنِ حکیم میں آتا ہے کہ آیاتِ الٰہی دو طرح کی ہیں ۔ ایک ’محکمات‘ جن کی زبان صاف ہے اورجو قرآن پاک کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری’متشابہات‘ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑ ھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ ’ متشابہات‘ ہی کے پیچھے پڑ ے رہتے ہیں(سورہ آل عمران: ۶) چنانچہ ابلیس مشیروں کے سامنے مندرجہ ذیل، متشابہات قسم کے، مسائل کی نشان دہی کرتا ہے جن میں امت ِ مسلمہ کو بآسانی الجھایا جا سکتا ہے:

۱۔ حیاتِ مسیح کا مسئلہ( آسمانوں پر حضرت عیسیٰ ؑ زندہ ہیں یا نہیں ؟ زندہ ہیں تو ان کی زندگی کی کیفیت کیا ہے؟)

۲۔ نزولِ مسیح کا مسئلہ (عیسٰی ؑ ابن مریم ہی نزول فرمائیں گے یا دنیا میں کوئی اور ایسا شخص پیدا ہو گا جس کے اندر ابن مریم کی صفات موجود ہوں گی؟)

۳۔ اللہ کی ذات و صفات کا باہمی تعلق کیا ہے؟

۴۔ قرآن پاک کے الفاظ حادث ہیں یاقدیم؟ ۳؎

[اسے خلق ِ قرآن کا مسئلہ بھی کہتے ہیں‘ یعنی قرآن اللہ کی مخلوق ہے یا نہیں؟ اس فتنے کی وجہ سے عباسی دور میں علماے کرام کی کثیر تعداد آزمایش سے دو چار ہوئی۔ ان میں بہت سے لوگ ثابت قدم رہے جیسے امام احمد بن حنبل جنھیں کوڑے مارے گئے اور جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس فتنے نے مسلمانوں کی وحدت فکر کو زبردست نقصان پہنچایا۔۳؎ ]

یہ ہیں وہ چند’’لات و منات‘‘ جو مسلمان کو الجھانے کے لیے کافی ہیں۔ مزید برآں ابلیس اپنے مشیروں کو تاکید کرتا ہے کہ اسے خیالی شعرو ادب اور عجمی تصو ّف کی طرف راغب کرو تاکہ زندگی کے عملی مسائل اس کی نگاہوں سے اوجھل رہیںاور اس کے کردار و احوال میں کوئی مثبت تبدیلی پیدا نہ ہو۔

یہ امر قابلِ لحاظ ہے کہ ابلیس امت ِ مسلمہ کو بالکل ہی لامذہب و ملحد بنانے کے حق میں نہیں بلکہ وہ مذہب کی انقلابی روح ختم کرکے مسلمانوں کے نگاہوں سے ’’ تماشاے حیات‘‘ چھپانا چاہتا ہے۔ آخری شعر میں ابلیس اپنے مشیروں کو ’’ مزاج خانقاہی‘‘ کی ترویج و استحکام کی تلقین اسی لیے کر رہا ہے کہ اسلام کا انفعالی ایڈیشن ابلسیت کے فروغ کے لیے سازگار فضا مہیا کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ محض ’’ذکر و فکر ‘‘ سے تو ابلیسی طاقتوں کے خلاف مزاحمت میں کامیابی نہیں ہوسکتی ، چنانچہ اقبالؔ کی تلقین ہے:

اے کہ اندر حجرہ ہا سازی سخن

نعرۂ ’’لا‘‘ پیشِ نمرودے بزن

اپنے مشیروں کے لیے ابلیس کا یہ لائحۂ عمل ایک لحاظ سے امت ِ مرحوم کا نوحہ ہے اور ایک اعتبار سے مسلمانوں کو حضرت علامّہ کی تنبیہ ہے جس میں مسلمانوں کے روز و شب کے آئینے میں، ان کی دکھتی رگوں کو چھیڑا گیا ہے مگر راہِ عمل بھی تجویز کی گئی ہے اور وہ ہے: بیداریِ عمل اور احتسابِ کائنات:

صورتِ شمشیر ہے دست ِ قضا میں وہ قوم

کرتی ہے جو ، ہر زماں اپنے عمل کا حساب

کلام اقبال میں اس نظم کی انفرادیت و اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:’’ اقبال کی یہ نظم جس طرح مسلمانوں کو ایک انو کھے انداز میں مسلمانوں کی غفلتوں اور گمراہیوں پر تنبّہ کرتی ہے ‘ اس طرح عام انسانوں کو بھی یہ بتاتی ہے کہ جن فتنوں کو وہ اپنے لیے خیر سمجھ رہے ہیں‘ ان میں سے ہر ایک کی تہ میں انسانی کی بربادی کا سامان چھپا ہوا ہے اور اصل فلاح کسی اور چیز میں ہے جس سے ابلیس کانپ رہا ہے۔ اور ہر ممکن طریقے سے کوشش کر رہا ہے کہ نوع انسان کہیں اس آبِ حیات کا پتا نہ پا سکے‘‘۔ (بحوالہ، اقبال اور مودودیؒ: ص ۵۷۔۵۸)

فنی تجزیہ

’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ آٹھ بندوں پر مشتمل ہے۔ اس کی بحر کانام: ’’ رمل مثمن محذوف‘‘ ہے۔بحر کے ارکان یہ ہیں: فَاعِلَاتُنْ فَاعِلَاتُنْ فَاعِلَاتُنْ فَاعِلْنَ

٭تمثیلی انداز اور ڈرامائیت:

زیر مطالعہ نظم ایک طرح کی تمثیل ہے۔ ابلیس اس تمثیل کا سب سے اہم کردار ہے۔ اس کے پانچ مشیر وں کی حیثیت تمثیل میں حصہ لینے والے کرداروں کی ہے۔ علامّہ اقبال نے بعض افکار و خیالات کو مؤثر طریقے سے پیش کرنے کے لیے کئی ڈرامائی وسیلوں سے کام لیا ہے۔ ان میں ابلیس اور اس کے پانچ مشیروں کے کردار ‘ ان کرداروں کا مکالمہ ‘ مجلس شوریٰ کا اسٹیج اور ایک مخصوص فضا… وہ ڈرامائی عناصر ہیں جن سے ایک خوب صورت تمثیل تشکیل پاتی ہے۔ اس ڈرامائیت نے نظم کی تاثیر اور معنویت کو بڑ ھا دیا ہے۔ زیر مطالعہ نظم میں اقبال نے عالمی سیاسی صورت حال ‘ جمہوریت اور اشتراکیت‘ فسطائیت اور امت ِ مسلمہ کے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا ہے۔ اگر وہ مجلس شوریٰ برپاکیے بغیر، بلا تمثیل ہی براہِ راست اظہارِ خیال کرتے تو نظم میں ایسی تاثیر پیدا نہ ہوتی ۔ نظم کے تمثیلی انداز اور ڈرامائیت نے اس کو خاص اہمیت عطا کی ہے۔

یہ امر معنی خیز ہے کہ علامّہ اقبال کی جن نظموں میں ابلیس کا ذکر آیا ہے، ان میں سے بیشتر میں ڈرامائی عناصر موجود ہیں۔

٭تمثیلی کردار اور نظم کا لب و لہجہ:

اس تمثیلی نظم کی تشکیل و تعمیر میں کئی کرداروں نے حصہ لیا ہے۔ نظم چھے مختلف کرداروں (ابلیس اور اس کے پانچ مشیروں) کے مکالموں پر مشتمل ہے۔ اس وجہ سے نظم کا لب و لہجہ یکساں نہیں ہے۔ ابلیس کی گفت گو میں ایک گونہ خود نمائی‘ خود پسندی ‘ خود اعتمادی ‘ تیقن اور کسی حد تک جوش موجودہے۔ وہ اپنے کارناموں کو ’’ میں ‘‘ کی تکرار سے زیادہ وزنی اور اپنے مشیروں کی نظر میں لائق صد تحسین بناتا ہے۔ اس کے افتتاحی اور اختتامی خطاب کے دوران میں، پارلیمنٹ ہال میں انتہائی خاموشی طاری ہے۔ اس خاموشی کا راز ابلیس کے شخصی جبروت‘وقار اور مشیروں کے دلوں میں اس کے لیے انتہائی تقدس و تکریم کے جذبات میں پوشیدہ ہے۔

مشیرانِ ابلیس میں سے، دوسروں کے مقابلے میں پہلے مشیر کا خطاب نسبتاً زیادہ پُراعتماد اور حکیمانہ بصیرت کاحامل ہے۔ امت ِ مسلمہ کی نفسیات اور جمہوریت کی حقیقی شکل کے بارے میں اس کے بصیرت افروز خیالات سے انداہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ ابلیس کا قریب ترین رفیق اور فہم و فراست میں ابلیس کے نائبین میں نمبر اول کی حیثیت رکھتا ہے۔اس کے لب و لہجے میں سنجیدگی اور ٹھہراؤ ہے۔ اس کے ہاں بے جا قسم کی خود نمائی نہیں‘ مگر ابلیسی نظام کی برتری اور فضیلت کا وہ صدقِ دل سے قائل ہے۔ پہلے مشیر کو ابلیسی نظام کے حقیقی معماروں میں شمارکرنا چاہیے۔

تمثیل میں دوسرے مشیر کا حصہ سب سے کم ہے۔ یہ خاموش طبع کردار پوری تمثیل میں صرف ایک موقعے پر لب کشائی کرتا ہے۔ اس کا مکالمہ جمہوریت کے بارے میں پہلے مشیر سے محض ایک سوال پر مشتمل ہے۔ چوتھے مشیر کی گفتگوبھی مختصر ہے۔ البتہ تیسرا اور پانچواں مشیر اپنا ما فی الضمیر قدرے وضاحت سے پیش کرتے ہیں۔ ان دونوں مشیروں کے مزاج اور انداز فکر میں خاصی ہم آہنگی ہے۔ دونوں عالمی سیاسی افق پر اشتراکیت کے ابھرتے ہوئے فتنے کو ابلیسی نظام کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں ۔ دونوں کی تشویش‘ان کے مکالموں سے (اب کیاہوگا؟‘‘ کے سے انداز میں) واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔ تیسرا مشیر اشتراکی طریقِ کار کو ’’طبیعت کا فساد‘‘ اور پانچواں مشیر مارکس کو ’’ یہودی فتنہ گر‘‘ قرار دیتا ہے۔ اس طرح گویا دونوں ہی اشتراکیت کے منفی رول کا بطور خاص حوالہ دیتے ہیں‘ تاہم پانچواں مشیر نسبتاً زیادہ مضطرب و بے چین ہے۔ اس کے گفتگو کے آخری حصے:

میرے آقا‘ وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے

سے اس کی حد درجہ تشویش ظاہر ہوتی ہے۔ ابلیس کی ’’ حکمت و بصیرت‘‘ اس کے مشیروں کے لیے باعث تسکین و تمکین ہے۔ وہ اپنی خوب صورت افتتاحی تقریر کے ذریعے اپنے مشیروں کے تمام سوالات اور ان کے جملہ اضطراب و اضطرار کا کافی و شافی جواب فراہم کرتا ہے۔

٭ایجاز و بلاغت:

’’ ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ کا دور وہ ہے جب فکر و فن کے اعتبار سے علامّہ اقبالؔ کی شاعری انتہائی عروج پر تھی۔ زیر مطالعہ نظم میں ان کی فنی مہارت کا ایک پہلو بعض اشعار ‘ مصرعوں اور متعدد تراکیب کا حسن ایجاز اور کمال بلاغت ہے۔ شعری فن کے ان وسیلوں پر ان کی گرفت اتنی کامل و محکم ہے کہ بعض ٹکڑے ’ در یابہ حباب اندر‘ جیسی کیفیت کے حامل نظر آتے ہیں‘ مثلاً :مغرب کے سرمایہ پرست جمہوری نظام پر اس سے بلیغ‘ جامع اور عمیق تبصرہ او ر کیا ہو سکتا ہے:

چہرہ روشن‘ اندروں چنگیز سے تاریک تر

اسی طرح ذیل کے اشعار اور مصرعے:

میں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیّت کا خواب

میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں

_______

ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا

_______

ہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جواب

_______

نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب

_______

کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دور میں

یہ الٰہیّات کے ترشے ہوئے لات و منات

اپنے اندر عالمی تاریخ کے نشیب و فراز ، امت ِ مسلمہ کی حالت ِ زبوںاور سیاسیات شرق و غرب کا ایک طویل اور وسیع پس منظر سموئے ہوئے ہیں۔

٭صنعت گری:

علامّہ اقبالؔ نے شعوری طور پر کبھی شعری صنعت گری کے لیے کاوش نہیں کی تاہم ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں ہمیں صنعت گری کی خوب صورت مثالیں ملتی ہیں:

۱۔ صنعت مراعاۃ النظیر:

جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند

کو ن کر سکتا ہے اس نخلِ کہن کو سر نگوں

۲۔ صنعت طباق: ( دو ایسے الفاظ کا استعمال جو معنی کے اعتبار کے سے ایک دوسرے کی ضد ہوں):

اس سے بڑھ کر او ر کیا ہوگا طبیعت کا فساد

توڑدی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب

۳۔ صنعت تلمیح:

وہ کلیم بے تجلی‘ و ہ مسیحِ بے صلیب

نیست پیغمبر و لیکن در بغل دار و کتاب

توڑ اس کا رومت الکبرٰے کے ایوانوں میں دیکھ

آل سیز ر کو دکھایا ہم نے پھر سیزر کا خواب

۴۔صنعت ترافق: ( جس مصرع کو چاہیں پہلے پڑ ھیں اور معنی میں کوئی فرق نہ آئے) :

ہے یہی بہتر الٰہیات میں الجھا رہے

یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں الجھارہے

۵۔ صنعت تنسیق الصّفات: ( کسی موصوف کے متعدد اوصاف متواتر بیان کرنا):

الحذر ‘ آئین پیغمبرؐ سے سوبار الحذر

حافظِ ناموسِ زن‘ مرد آزما ‘ مرد آفریں

صنعت ملمّع:(جب کلام میں دو زبانیں جمع کر دی جائیں ۔ یہاں پہلا مصرع اردو میں ہے اور دوسرافارسی میںہے):

موت کا پیغام ہر نوعِ غلامی کے لیے

نے کوئی فغفور و خاقاں ‘ نے فقیر رہ نشیں

معروف اقبال شناس پروفیسر محمدمنوّر (م: ۷ فروری ۲۰۰۰ئ) اس نظم پر ایک مجموعی راے دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ میں نیم ڈرامائی آہنگ اور فن کارانہ پختہ کلامی کے ہمراہ ‘ اسلامی نظام کی بے نظیر اصولی‘ اجتماعی اور روحانی قوت کا برملا اظہار و اعلان ہے۔‘‘

حواشی

ا۔ پروفیسر اسلوب احمد انصاری نے : ’’ دست فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک‘‘ کا یہ مفہوم اخذ کیا ہے :’’ جو انتشار اور افراتفری استعماریت کی پروردہ اور پرداختہ ہے اور جس کا جال سارے یورپ میں پھیلا ہوا ہے‘‘۔ ( اقبال کی تیرہ نظمیں: ص۲۴۸) راقم کے خیال میں یہ مفہوم درست نہیں ہے کیونکہ اس طرح تو مغرب کے استعمارانہ مظالم‘ خدائی منصوبہ متصو ّر ہوں گے اور ایک لحاظ سے یہ استعماریت کا جواز بھی ہوگا کہ ’’ دست فطرت‘‘ نے اس کا اہتمام کیاہے۔

۲۔ پروفیسر اسلوب احمد انصاری نے زیر بحث شعر کے مصرع اوّل میں ’’ کب ‘‘ کے بجاے ’’ کیا‘‘ لکھا ہے… اور پھر اس شعر کو ابلیس کا ایک ’’سوال‘‘ قرار دیا ہے۔( اقبال کی تیرہ نظمیں: ص ۲۴۹)راقم کے نزدیک یہ شعر ایک سوال نہیں بلکہ پہلے مصرعے میں استفہام انکاری سے کام لیا گیا ہے۔ یعنی ابلیس مصر ہے کہ اشتراکی کوچہ گرد مجھے ہرگز نہیں ڈرا سکتے۔

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Shopping Cart
Scroll to Top