نظم کا تعارف
ابلیس کی مجلس شوری، علامہ اقبال کی شہرہ آفاق نظم ہے جو ان کی آخری کتاب ”ارمغان حجاز ” کے حصہ اردو کی پہلی نظم ہے۔ بقول پروفیسر یوسف سلیم چشتی صاحب، یہ نظم علامہ مرحوم کے تیس سالہ پیغام کا لبِ لباب ہے، کہ انہوں نے اس نظم میں اسلام کے تمام بنیادی اصولوں کو ایسی جامعیت اور وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے کہ اس نظم کو اس موضوع پر اقبال کا حرفِ آخر کہہ سکتے ہیں۔ اس نظم کی تشریح جناب محمد عماد عاشق صاحب نے بھی ہے اور وہی آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ ابلیس اپنے دربار میں اپنے چیلوں یا مشیروں کے ساتھ بیٹھا ہے اور ان سے کچھ یوں مخاطب ہوتا ہے۔
یہ عناصر کا پرانا کھیل یہ دنیائے دوں،
ساکنانِ عرشِ اعظم کی تمناؤں کا خوں،
اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز
جس نے اس کا نام رکھا تھا جہانِ کاف و نوں
میں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب
میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں
میں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا
میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں
کون کر سکتا ہے اس کی آتش سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوز دروں
جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا ہے اس نخل کہن کو سرنگوں
شرح:
اس شہرہ آفاق نظم کے پہلے بند میں اقبال فرماتے ہیں کہ ابلیس اپنے مشیران سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ یہ ساری کائنات مال اسباب کی دنیا ہے اور اس کی کارگزاری فریب پر مبنی ہے۔ غور کیجیے کہ کس خوب صورتی سے علامہ نے ابلیسیت کو ایک مصرعہ میں پرو دیا ہے۔ یعنی ابلیسیت نام ہی اس چیز کا ہے کہ دنیا فقط مال اسباب کا نام ہے، اور اس کا اعلی اخلاقی اقدار جیسے بندہ پروری، محبت و ادب، اتحاد ونظم وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں اور یہی معاملہ الہامی عقائد جیسے عقیدہِ توحید، رسالت، آخرت وغیرہ کا ہے۔ ابلیسیت کے نزدیک اس دنیا کی رنگینیاں ہی اہم ہیں۔ ابلیسیت کے نصاب میں روزِ جزا، آخرت جیسی کوئی شے نہیں۔ بلکہ ابلیسیت تو سراسر یہ کہتی ہے کہ جو کچھ ہے وہ فقط اس دنیا میں ہے اور ان مال اسباب کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانا پڑے تو جانا چاہیے۔ کس خوبی اور اختصار سے علامہ نے ابلیسیت کو ایک مصرعہ میں سمو کر رکھ دیا، ”یہ عناصر کا پرانا کھیل، یہ دنیائے دوں!”۔
ابلیس کہتا ہے کہ یہ اس دنیا کا وجود ان فرشتوں کی خواہش کے خلاف ہے جو ہر وقت اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور جنہوں نے اللہ سے کہا تھا کہ یہ تیری بنائی مخلوق (انسان) زمین پر فتنہ و فساد پیدا کرے گی۔ پھر ابلیس کہتا ہے کہ وہ اللہ جس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس نے اس کائنات کو حرفِ کاف و نوں یعنی کن فیکوں کہہ کر تخلیق کیا، آج وہی اللہ اس کائنات کی بربادی پر تلا ہوا ہے۔ یہاں ابلیس کا اشارہ جنگِ عظیم اول کی جانب ہے، اور ابلیس یہ کہہ رہا ہے کہ گو کہ میری ہی ماننے والی قوتیں (جرمنی اور انگلستان) آپس میں دست و گریباں ہوئیں اور اس کے نتیجے میں یہ ڈر ہے کہ اگر یہ سلسلہ ایسا ہی رہا تو دنیا سے طاغوتی طاقتیں ختم ہو جائیں گی، مگر میں (ابلیس) ہرگز ایسا ہونے نہیں دوں گا کیونکہ میں نے بہت محنت سے اپنا یہ ابلیسی نظام کھڑ اکیا ہے۔
اپنے نظام کی ہئیت کا ذکر کرتے ہوئے ابلیس کہتا ہے کہ میں نے یورپی اقوام کو ملوکیت یعنی مطلق العنانی جیسی چیز سے روشناس کروایا اور اسی کے نتیجے میں برطانیہ میں تاجِ برطانیہ قائم ہوا جس کے زیرِ نگیں مشرق و مغرب کے ملک رہے۔ میں نے ہی تو عام آدمی کے دل سے مذہب اور دین کی اہمیت کو کم کیا۔ یہ میری ہی تو تعلیمات کا اثر ہے کہ آج کے دور میں انسان کے پیشِ نظر مادی ترقی ہے نہ کہ روحانی بالیدگی و فکری آسودگی۔ میں نے ہی تو کمزور لوگوں کو یہ میٹھا زہر دیا ہے کہ تمہاری کمزوری کی وجہ تمہاری جہالت اور ظالم کا جبر و قہر نہیں، بلکہ ربِ کائنات نے تمہاری قسمت میں ہی یہ لکھ رکھا ہے کہ تم ازل سے تا ابد غلام رہو۔ یہ میری ہی تعلیمات کا نتیجہ ہے کہ کمزوروں کے دل میں جذبہِ حریت پیدا نہیں ہوتا اور وہ اپنی غلامی کی زنجیروں میں بہت خوش ہیں۔ دوسری جانب، میں نے ہی تو مال و دولت رکھنے والوں کو یہ سبق دیا ہے کہ تمہاری دولت میں کسی اور کا کچھ حصہ نہیں، بلکہ یہ سب کا سب تمہارا ہے اور یہ تمہارا پیدائشی حق ہے کہ تم اس مال و زر میں اضافے کے لیے جو طریقہ چاہو، اختیار کرو۔ آخرکار یہ دنیا عناصر کا پرانا کھیل ہی تو ہے!
بند کے آخری دو اشعار میں ابلیس بے انتہا غرور کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آخر کون ہے جو اس سارے نظام کو تہہ و بالا کر سکے۔ کس میں اتنی جرات ہے کہ اس تپتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کرے جسے ابلیس نے اپنے سوز سے روشن کیا ہو؟ کس کی ہمت ہے کہ اس درخت کو ڈھا دے جس کی شاخیں ابلیسیت کے پانی سے پروان چڑھی ہوں؟

پہلا مشیر
اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام
پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام
ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجود
ان کی فطرت کا تقاضا ہے نماز بے قیام
آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں
ہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام
یہ ہماری سعء پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام
طبع مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھی
ورنہ قوالی سے کچھ کم تر نہیں علم کلام
ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغ بے نیام
کس کی نو میدی پہ حجت ہے یہ فرمان جدید
ہے جہاد اس دور میں مرد مسلماں پر حرام

شرح:
ابلیس کی ساری بات سن کر اس کا پہلا مشیر ابلیس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابلیس کا کھڑا کیا ہوا نظام نہایت مضبوط ہے۔ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ دوسروں کو اپنا محکوم بنانا چاہتا ہے، اس مقصد میں جب ابلیس نے بادشاہوں کی مدد کی، تو عوام اپنی غلامی میں پختہ تر ہو گئے۔ ان غلاموں کی تو ہمیشہ سے یہی فطرت ہے کہ یہ بادشاہوں کے غلام رہیں اور ہمیشہ ان کی اطاعت میں پختہ رہتے ہیں۔ اسی سوچ کے زیرِ اثر یہ بادشاہوں کو ظلِ الہی کہتے آئے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان کی نماز میں قیام نہیں، یعنی ان کی کل زندگی بادشاہوں کے سامنے سجدے یعنی بادشاہوں کی اطاعت میں ہی گزر جاتی ہے۔ پھر مشیر کہتا ہے کہ یہ اپنی غلامی میں اس قدر پختہ ہیں کہ اول تو ان میں آزادی کی آرزو پیدا ہوتی ہی نہیں، اور اگر کہیں غلطی سے ایسا ہو بھی جائے تو وہ آرزو خام رہ جاتی ہے، یعنی وہ اپنی اس آرزو کی تکمیل کے لیے کوئی کوشش نہیں کرتے۔ مزید یہ کہ یہ ابلیس اور اس کے کارندوں کی ہی کوششوں کا ثمر ہے کہ آج اسلام کا نام لینے والے علمائے سُو اور غیر اسلامی تصوف پیش کرنے والے نام نہاد صوفی سرمایہ داری یعنی مادیت پرستی کے غلام ہو چکے ہیں، یعنی ان کا مطمعِ نظر رضائے الہی کے حصول کی بجائے مال و اسباب کا حصول ہے۔ اسی نکتہ کو آگے بڑھاتے ہوئے ابلیس کا مشیر کہتا ہے کہ مشرق کی قومیں سہل پسند ہیں، یہ اس قابل بھی نہیں کہ ہماری شروع کی گئی علم الکلام کی دقیق بحثوں کا مطالعہ علم الکلام کی کتب سے کریں، اسی لیے ہم نے قوالی یعنی غیر اسلامی تصوف متعارف کروا دیا، تاکہ جو مقصد ہم نے علم الکلام کے ذریعے حاصل کر نا تھا، وہ قوالی سے کریں۔ علم الکلام انسان کو بے عملی و بے کاری کا عادی بناتا ہے، مگر چونکہ مشرقی اقوام کا مزاج ذرا جدا ہے، اس لیے ہم نے یہیں کام قوالی یعنی غیر اسلامی تصوف سے حاصل کیا۔ اور اگر اس سب کے بعد بھی اگر ہم یہ دیکھیں کہ مسلمان ہر سال حرم میں جمع ہو کر اپنی وحدت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اس میں پریشانی کی چنداں بات نہیں، کیونکہ مسلمانوں میں اب باطل کو مسمار کرنے کا جذبہ ناپید ہو چکا ہے اور یوں ان کی عبادات محض رسوم بن کر رہ گئی ہیں۔ ہم نے ہی تو اپنے دوستو ں کے ذریعے یہ نئی بات مسلمانوں میں مشہور کی ہے کہ اب مسلمانوں کو جہاد بالسیف کی ہرگز ضرورت نہیں اور یوں ہم نے انہیں باطل کی مخالفت سے باز رکھا ہے۔ یہاں علامہ کا اشارہ ان فتاویٰ کی جانب ہے جن میں مسلمانوں کو جہاد بالسیف سے روکا گیا۔
دوسرا مشیر
خیر ہے سلطانیِ جمہور کا غوغا کہ شر
تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں با خبر
شرح:
ابلیس کے پہلے مشیر کی بات سن کر دوسرا مشیر کہتا ہے کہ وہ سب تو ٹھیک ہے جو تم کہہ رہے ہو کہ ابلیسی نظام مستحکم ہے اور اس کے انسانیت پر ایسے اثرات موجود ہیں جو ہمارے حق میں بہت فائدہ مند ہیں، مگر سنا ہے کہ اب دنیا میں جمہوریت نام کے کسی نظام کا راج بڑھ رہا ہے اور اب کہا جا رہا ہے کہ جمہوریت نامی یہ نظام ملوکیت کا توڑ ہے۔ تمہارا علم اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ کیا یہ نیا نظام جسے دنیا جمہوریت کہتی ہے، ہمارے نظام کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ؟
پہلا مشیر:
ہوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے
جو ملوکیت کا اک پردہ ہو، کیا اس سے خطر!
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر
کاروبار شہریاری کی حقیقت اور ہے
یہ وجود میر و سلطاں پر نہیں ہے منحصر
مجلس ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو
ہے وہ سلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر!
شرح:
دوسرے مشیر کا سوال سن کر ابلیس کا پہلا مشیر کہتا ہے کہ میرے فہم کے مطابق تمہیں جمہوریت کے بارے میں چنداں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ درحقیقت، جمہوریت بھی ملوکیت کا ہی ایک رنگ ہے۔ بلکہ سچ پوچھو تو ہم نے ہی بادشاہت کو جمہوریت کا لبادہ پہنا کر دنیا کے سامنے ایک متبادل نظام کے طور پر پیش کیا ہے۔ اور ہم نے ایسا تب کیا جب سیانسان کو اپنے بارے میں یہ وہم ہوا ہے کہ وہ بڑی اچھی طرح خود کو سمجھتا ہے اور اسے اسے اپنے حقوق کی بہت فکر ہے۔ جب انسان کے اندر یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ اسے نظامِ حکومت بادشاہ کے ہاتھ سے چھین کر اپنے ہاتھ میں لینا ہے، تو ہم نے اسی لمحے بلا تاخیر دنیا کو جمہوریت سے روشناس کروایا۔ اس سے دنیا کی بھی تسلی ہو گئی اور ہمارا نظام بھی ویسے ہی چلتا رہا، جیسے جمہوریت کے آنے سے پہلے چل رہا تھا۔
اب ابلیس کا پہلا مشیر اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ بادشاہی کے وجود کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ مسند اقتدار کس کے پاس ہے۔ چہروں کے بدلنے یا ہئیت میں کسی قدر تبدیلی سے چنداں فرق نہیں پڑتا۔ ہماری راج دھانی ایسی نہیں کہ کسی کے آنے جانے سے فرق پڑے۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ چاہے نظامِ بادشاہت ہو یا پارلیمانی نظامِ حکومت، دوسرے کی دولت پر اپنی نظر رکھنے والے ہی تو دراصل ہمارے پیروکار ہیں۔ اب جب مقصد ہی یہ ہے کہ دنیا کی دولت کو اپنے قبضے میں کیا جائے، کمزور کا استحصال کیا جائے، سرمایہ دار کو مزید طاقتور کیا جائے، اسے اس بات کی ترغیب دی جائے کہ وہ ہر جائز ناجائز طریقے سے اپنی مالی سطوت میں اضافہ کرے، تو پھر اس بات سے فرق ہی کیا پڑتا ہے کہ مسند اقتدار کسی ایک فرد کے پاس ہے، یا فیصلہ سازوں کی تعداد چند سو ہے۔ جب ان چند سو کا مقصدِ حیات بھی عناصرکا حصول ہی ہے، تو پھر فقط تعداد میں اضافہ کیسے ہمارے نظام کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے؟ اس کےبعد مشیر کہتا ہے کہ کیا تم نے مغرب میں رائج جمہوری نظام نہیں دیکھا جو کہ اپنی مندرجات میں ظاہری طور پر تو انتہائی خوش نما معلوم ہوتا ہے، مگر در حقیقت وہ اس ظالم بادشاہ کے جبر و قہر سے بھی زیادہ خوفناک ہے جس نے انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا تھا؟ یہ مغربی جمہوریت فقط دیکھنے میں خوش کن ہے، جبکہ اس کی اصل نہایت گھناؤنی اور بھیانک ہے۔ یہ نظام انسانوں کو یہ باور کراتا ہے کہ وہ اپنے عقل و شعور کو استعمال میں لاتے ہوئے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر رہے ہیں، جبکہ در حقیقت یہ نظام ابلیسیت کے لیے وہی مقاصد حاصل کر رہا ہے جو اس سے قبل ملوکیت حاصل کیا کرتی تھی۔
اقبال ؒ یہاں فرماتے ہیں کہ جمہوریت در حقیقت یہ ملوکیت کی ہی ایک جدید ترین شکل ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے ہٹلر یا خسرو جیسا کوئی ایک مطلق العنان حکمران ابلیس کے آگے سرِ تسلیم خم کرتا تھا، اب پوری کی پوری پارلیمان ابلیس کے آگے دو زانو ہوئی بیٹھی ہے۔ جب مطمعِ نظر ہی کمزور کی دولت ہڑپ کر کے اپنے جاہ و جلال اور نظام کو دوام بخشنا ہے تو پھر اس بات سے قطعی طور پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ حکومت کی زمامِ کار سنبھالنے والا کوئی فردِ واحد ہے، یا پارلیمان پر مبنی کوئی فوج ظفر موج۔ اقبالؒ نے جمہوریت کو چنگیزیت سے بدتر کہا۔ چنگیز تو وہ تھا کہ جس نے لاکھوں انسانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے۔ مغرب کے جمہوریت پسند تو لوگوں کا معاشی استحصال کر رہے ہیں۔ وہ غریب اقوام کو آئے ایم ایف اور ورلڈ بنک کے جھمیلوں میں پھنسا کر ان کی آزادی سلب کرتے ہیں۔ جب وہ مکمل طور پر ان مغربی طاقتوں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں تو پھر یہ طاقتیں ان غریب ملکوں کے وسائل پر مکمل طور پر قبضہ کر لیتی ہیں۔ یوں عناصر کا یہ پرانا کھیل جاری و ساری رہتا ہے اور اسی طور ابلیسیت کو دوام نصیب ہوتا ہے۔

تیسرا مشیر
روح سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب
ہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جواب؟
وہ کلیم بے تجلی! وہ مسیح بے صلیب!
نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب!
کیا بتاوں کیا ہے کافر کی نگاہِ پردہ سوز
مشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روز حساب!
اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فساد
توڑ دی بندوں نے آقاوں کے خیموں کی طناب!

چوتھا مشیر
توڑ اس کا رومتہ الکبریٰ کے ایوانوں میں دیکھ
آل سیزر کو دکھایا ہم نیپھر سیزر کا خواب
کون بحر روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہوا
گاہ بالدچوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب
تیسرا مشیر
میں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں
جس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجاب!
شرح:
پہلے مشیر کی جمہوریت کی تعریف میں تقریر سن کر تیسرا مشیر اس پر کہتا ہے کہ اگر جمہوریت میں بھی ملوکیت ہی کی ایک شکل ہے تو پھرتو پریشانی کی چنداں فکر نہیں، مگر وہ جو کارل مارکس نے دنیا کو ایک نیا نظام دے دیا ہے، اس کا تمہارے پاس کیا جواب ہے؟ گو کارل مارکس پیغمبر نہیں، مگر اس کے ماننے والے اس کی باتوں پر ایسے ہی عمل کرتے ہیں جیسے وہ معجزوں کی قوت سے محروم پیغمبر ہی ہو۔ گو اس کو الہامی علم عطا نہیں، مگراس کے ماننے والے اس کی کتاب ”سرمایہ” پر عمل ایسے ہی کرتے ہیں گویا وہ کوئی پیغمبر ہو۔ تمہیں اس کے پیغام کی اثر آفرینی کا اندازہ ہی نہیں۔ اس کی آواز نے چہار دانگ عالم میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس کے پیغام نے غریبوں کو وہ آواز دی ہے کہ ساری دنیا کے سرمایہ دار انگشت بدنداں ہیں۔ اس کی ندا نے کمزور میں یہ حوصلہ پیدا کر دیا ہے کہ آج ہر کس و ناکس اپنے سے بڑے سے اس کے عمل کا حساب مانگ رہا ہے۔ سرمایہ دار مغرب کے ہوں یا مشرق کے، سب ہی کارل مارکس کی جگائی ہوئی عوام کے سامنے جواب دہ سے نظر آتے ہیں۔ ایسا تو آج تک نہ ہوا تھا کہ کسی غریب کو یہ جرات ہوتی کہ وہ سرمایہ دار کے سامنے کلمہِ حق بلند کرتا، مگر آج کارل مارکس کی آواز نے دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔
تیسرے مشیر کی یہ تقریر سن کر چوتھا مشیر کہتا ہے کہ تم اشتراکیت کے بار ے میں فکر مند مت ہو۔ ہم نے اطالیہ میں فسطائیت کی تحریک کو جنم دے اشتراکیت کا حل ڈھونڈ لیا ہے اور اس کی زمامِ کار مسولینی کے ہاتھ میں دی ہے۔ مسولینی نے فوجی طاقت اور وطن پرستی کی مدد سے جو سخت قوانین اٹلی میں بنائے ہیں، وہ اشتراکیت کو اس کی جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور یوں مارکس کی تعلیمات اپنے آپ دم توڑ جائیں گی۔ کبھی مسولینی تقریر سے اپنے پیروکاروں کے جوش کو بڑھا رہا ہوتا ہے اور کبھی میدانِ کارزار میں اس کی فوج رزم کے جوہر دکھا رہی ہوتی ہے۔

چوتھے مشیر کی یہ بات سن کر تیسرا مشیر اسے کہتا ہے کہ میں تو مسولینی کی دور اندیشی کا ہرگز قائل نہیں۔ وہ تو نہایت بے وقوف اور کوڑھ مغز ثابت ہو ا ہے۔ اس نے تو ہماری سازش کو خود ہی بے نقاب کر دیا۔ ہم تو جدید جاگے ہوئے انسان کے لیے جمہوریت جیسے میٹھے زہر لے کر آئے تھے اور اس کے ذریعے ہی غریبوں اور ناداروں کا استحصال کرتے تھے۔ مگراس بیوقوفی مسولینی نے تو کھلم کھلا فساد برپا کر کے ہمارے ہر راز کا پردہ فاش کر دیا ہے۔
پانچواں مشیر
(ابلیس کو مخاطب کرکے)
اے ترے سوزِ نفس سے کارِ عالم استوار
تو نے جب چاہا کیا ہر پردگی کو آشکار
آب و گل تیری حرارت سے جہانِ سوز و ساز
ابلہِ جنت تری تعلیم سے دانائے کار
تجھ سے بڑھ کر فطرت آدم کا وہ محرم نہیں
سادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگار
کام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طواف
تیری غیرت سے ابد تک سرنگوں و شرمسار
گرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحر تمام
اب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار
وہ یہودی فتنہ گر، وہ روحِ مزدک کابروز
ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تار
زاغ دشتی ہو رہا ہے ہمسرِ شاہیں و چرغ
کتنی سرعت سے بدلتا ہے مزاجِ روز گار
چھا گئی آشفتہ ہو کر وسعتِ افلاک پر
جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مشتِ غبار
فتنہء فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج
کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئبار
میرے آقا! وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے
جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پرمدار
تشریح:
اس موقع پر ابلیس کاپانچواں مشیر ابلیس کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اے میرے آقا، تیرے ہی دم سے دنیا کا نظام چل رہا ہے، اور وہ تو ہی ہے جس نے جب چاہا ہر چھپے ہوئے راز کو دنیا کے سامنے آشکار کر دیا۔ پوشیدہ کے ظاہر ہونے سے مراد یہ ہے کہ پہلے دنیا کے مکار لوگ چھپی ہوئی سازشیں کرتے ہیں اور پھر وقت آنے پر وہ تمام سازشیں دنیا کے سامنے ظاہر ہو جاتی ہیں۔ ابلیس کا مشیر اسے کہتا ہے کہ اس بوسیدہ اور پژمردہ دنیا میں تیرے دم سے ہی حرارت ہے۔ یہ قتل و غارت کی صورت میں جو آتش گیری دنیا میں موجود ہے، یہ سب تیری ہی عطا کردہ ہے۔ وہ آدم جو سکون سے جنت میں رہا تھا، وہ تیری ہی بات سے دنیا میں آیا اور دنیا کے راز و نیاز سے واقف ہوا۔ اے میرے آقا، انسان کے مسائل اورکمزوریوں کا جو ادراک تجھے ہے، وہ تو اس ذات کو بھی نہیں جسے سادہ دل بندے اپنا پروردگار مانتے ہیں۔ وہ فرشتے جو ہر وقت اپنے رب کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں، وہ آج بھی تیرے سامنے شرمندہ ہیں، کیونکہ وہ تو یہ سن کر خاموش ہو گئے کہ تم جانتے نہیں ہو، مگر وہ تو تُو تھا جس نے رب کے سامنے بغاوت کی اور خدا کی ناراضگی مول لے لی۔ میرے آقا، گو کہ تمام یورپی امراء تیرے ہی مرید ہیں، مگر مجھے اب ان کی عقل و دانش پر ذرا اعتبار نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپ میں جو اشتراکیت کی ہوا چلی ہے، اس کو سنبھالنا یورپ کے امراء کے بس کی بات نہیں۔ اس یہودی نے جو فتنہ کھڑا کیا ہے، وہ ان سے سنبھالے نہیں سنبھلتا۔ وہ شخص جس میں حکیم مزدک کی روح ہے، اس کی تعلیمات نے دنیا میں انقلاب بپا کر دیا ہے۔ آج یہ عالم ہے کہ مزدور و کسان (زاغِ دشتی) بڑے بڑے صنعت کاروں اور جاگیرداروں (شاہین و چرغ) کے مدِ مقابل آ گئے ہیں۔ ہم تو اس تحریک کو ایک معمولی سی تحریک سمجھ رہے تھے، مگر یہ تو آن کی آن میں ایک عالمگیر تحریک بن گئی ہے اور آج ہر ملک میں مارکس کے نام لیوا موجود ہیں، اور آج بڑے بڑے جاگیردار اور امرا اس تحریک سے تھر تھر کانپ رہے ہیں کہ اگر یہ تحریک ان تک بھی پہنچ گئی تو ان کی قائم کی گئی راجدھانی کاکیا بنے گا۔ میرے آقا، میں آپ کا پر خلوص خادم ہونے کے ناطے آپ کو بتا رہا ہوں کہ وہ سارا ابلیسی نظام جو آپ نے قائم کیا ہوا ہے، اب تباہی کے درپے ہے۔
ابلیس
(اپنے مشیروں سے)
ہے مرے دستِ تصرف میں جہانِ رنگ و بو
کیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسماں ِ تو بتو
دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرق
میں نے جب گرما دیا اقوام یورپ کا لہو
کیا امامانِ سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہو!
کار گاہِ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے
توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو
دستِ فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک
مزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو
کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشفتہ ہو
ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو
خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشکِ سحر آگاہی سے جو ظالم وضو
جانتا ہے، جس پہ روشن باطنِ ایام ہے
مزدکیت فتنہء فردا نہیں، اسلام ہے
(2)
جانتا ہوں میں یہ امت حاملِ قرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندہء مومن کا دیں
جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے ید بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں
عصر حاضر کے تقاضوں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں
الحذر آئین پیغمبر سے سو بار الحذر
حافظ ناموس زن، مرد آزما، مرد آفریں
موت کا پیغام ہر نوع غلامی کے لیے
نے کوئی فغفور و خاقاں، نے فقیر رہ نشیں
کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک و صاف
منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں
اس سے بڑھ کر اورکیا فکر و عمل کا انقلاب!
بادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمیں
چشمِ عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئیں تو خوب
یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ یقیں!
ہے یہی بہتر الہیات میں الجھا رہے
یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں?الجھا رہے
(3)
توڑ ڈالیں جس کی تکبریں طلسمِ شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات!
ابنِ مریم مر گیا یا زندہء جاوید ہے؟
ہیں صفاتِ ذاتِ حق سے جدا یا عین ذات؟
آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے
یا مجدد جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات؟
ہیں کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم
امتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟
کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دور میں
یہ الہیات کے ترشے ہوئے لات و منات؟
تم اسے بیگانہ رکھو عالمِ کردار سے
تا بساطِ زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات!
خیر اسی میں ہے قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میں خوب تر
جو چھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات!
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات!
مست رکھو ذکر و فکرِ صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے
ابلیس اپنے تمام مشیران کی بات نہایت تحمل سے سنتا ہے۔ جب اس کے دو مشیران اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ اشتراکیت ابلیسی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے تو ابلیس اپنی بات ایک بار پھر سے شروع کرتا ہے۔ اسی تقریر پر اس نظم کا اختتام ہوتا ہے۔
ابلیس کہتا ہےکہ میرے قبضہِ قدرت میں سورج، چاند، ستارے الغرض سب کچھ ہے۔ میرے ایک اشارے کی بات ہے کہ دنیا میری پھیلائی گئی تباہی کا تماشا دیکھ لے گی۔ تمہیں میری طاقت کا شاید اندازہ نہیں، میں اپنے ایک اشارے سے ہر کس و ناکس سے وہ کام لے سکتا ہوں جو میں چاہوں گا۔ چاہے کوئی سیاست کا طرم خاں ہو یا مذہب کا ماننے والا، ہر کوئی میرے قبضہِ قدرت میں داخل ہے۔ اور رہی یہ بات اشتراکیت کی، تو اگر اشتراکیت یہ سمجھتی ہے کہ وہ میرے نظام کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گی، تو وہ اپنا یہ شوق پورا کر دیکھے۔ اس میں ایسی جرات کہاں کہ مجھے نقصان پہنچائے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ معاشرے میں جو تقسیم فطرتاَموجود ہے، وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ یہ تقسیم رنگ و نسل، ذات برادری، دولت و حشم کی ہے۔یہ سوچنا ہی غیر فطری ہے کہ دنیا کے تمام انسان مقام و مرتبہ میں ایک ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ اشتراکی نظام آج تک کہیں بھی لاگو نہیں ہو سکا، کیونکہ یہ صرف اور صرف کتابی باتوں پر مشتمل ہے۔ اس لیے تم اشتراکیت کے بارے میں ہرگز فکر مند مت ہو۔ یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔۔۔۔ ہاں، اگر مجھے کسی نظام، کسی قوم، کسی نظریہ سے خطرہ ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے۔ یہ وہ قوم ہے جس کے دل میں اب بھی عشقِ رسول ﷺ کی آگ سلگ رہی ہے۔ اب بھی اس قو م میں ایسے کچھ لوگ موجود ہیں جن کی صبح کا آغاز بیڈ ٹی اور اخبار سے نہیں، بلکہ اللہ کے حضور آہ و زاری اور گریہ سے ہوتا ہے۔ یہ اسلام ہی کا نظام ہے جس کے سامنے چھپی ہوئی اشیاء کی حقیقت ہے۔تم کہتے ہو کہ اشتراکیت ہمارے لیے آنے والے دن کی مصیبت ہے۔ نہیں، ہرگز ایسا نہیں۔ ہمارے لیے اگر کوئی نظام خطرہ ہے، تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے!
ابلیس اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے اس بات کا پورا پوراادراک ہے کہ آج مسلمانوں نے قرآن کی تعلیمات کو ترک کر رکھا ہے۔ میرے علم میں یہ بات بھی ہے کہ آج مسلمان بھی پیسے کے پجاری ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اس ملت کے راہنما اب قوتِ یلغار سے عاری ہیں۔ اور کسی مذہبی و سیاسی راہنما کے پاس ایسا کوئی گر نہیں جو اس امت کے مسائل حل کر سکے۔ الغرض یہ امت مسائل میں گھری ہوئی ہے۔۔۔مگر، مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان مشکلات کے نیتجے میں کہیں آئینِ پیغمبر ﷺ ایک بار پھر سے زندہ ہو جائے۔ میں اس بات سے خوف زدہ ہوں کہ کہیں مسلمان اپنے مسائل کا حل قرآن و سنت میں تلاش نہ کرے اور یوں وہ اپنے دین کو اپنی عملی، اجتماعی و ذاتی، زندگی میں نافذ نہ کردے، کیونکہ اس کا ایسا کرنا ہمارے نظام کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ میرے مشیران، میں تم لوگوں کو خبردار کرتا ہوں، آئینِ رسول اللہ ﷺ سے خوف کھاؤ۔ یہ ہمارے نظام کی تباہی کا سامان ہے۔ یہ نظام عورت کی عزت کا محافظ ہے۔ یہ مردوں کو نہ صرف امتحانات سے گزار کر ان کی مضبوطی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ یہ بہادروں، سالاروں اور عظیم انسانوں کی پرورش بھی کرتا ہے۔
اسلام کا نظام وہ نظام ہے جو ہر قسم کی غلامی اور تفریقِ رنگ و نسل سے پاک ہے، کہ یہاں معیار صرف اور صرف تقویٰ ہے۔ اس نظام نے آ کر آقا کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنے نوکر کو وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے۔ وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے۔ اور میرے مشیران، ہمارا نظام تو شروع ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ انسان کو غلام کر دیا جائے، اس کی خواہشات کا غلام، مال و زر کا غلام۔۔۔اور رفتہ رفتہ انسان کو انسان کا غلام بنایا جائے، مادی طور پر نہ سہی، ذہنی طور پر ہی سہی۔ اس کے برعکس اسلام انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کر کے فقط ایک خدا کا غلام کرتا ہے۔
اس لیے یہ بات سمجھ لو، کہ اسلام انسانوں کو ہر قسم کی مادی زنجیروں سے آزاد کرتا ہے۔ اسلام کسی آمر، کسی ملک، کسی بادشاہ کو مطلق العنان نہیں مانتا۔ یہ کسی کو گداگری پر مجبور نہیں کرتا۔ یہ عظمتِ انسانی کا شاہکار نظام ہے۔ یہ فقط عبادات و رسوم کا نام نہیں، یہ ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے، جو مسلمانوں کو یہ تلقین کرتا ہے کہ وہ اپنے مال کو پاک کریں۔مسلمان کے مال پر اس کا کوئی کلی حق نہیں، بلکہ اس پر اس کے ساتھی انسانوں کا بھی حق ہے۔ اسی لیے اسلام نے زکوۃٰ، صدقہ اور فطر کا نظام دیا،، جبکہ ہمارا ابلیسی نظام تو منحصر ہی اس بات پر ہے کہ سرمایہ دار کی دولت پر صرف اور صرف اسی کاحق ہے، اور وہ جس طور چاہے اپنی دولت میں اضافہ کرے۔ اس سے بڑھ کر اور اسلام کی خطرناک تعلیم کیا ہوگی، کہ اسلام تمام مال اسباب کا مالک اللہ تعالیٰ کوبتاتا ہے۔ یوں وہ دنیا کے ملوک سے زمین کے وسائل کی حقیقی ملکیت چھین لیتا ہے، بلکہ یہ کہتا ہے کہ زمینوں اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، وہ فقط اللہ کا ہے، وہی اللہ جو ناداروں کا بھی رب ہے اور بادشاہوں کا بھی۔ یہی پیغام تو ہر نوعِ غلامی کے لیے موت ہے۔ اس لیے اس بات کی مکمل یقین دہانی کرو کہ یہ نظام دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رہے۔ اور یہ بات تو ہمارے حق میں بہت ہی اچھی ہے کہ یہ نظام آج خود مسلمانوں کی نگاہوں سے اوجھل ہے۔ مسلمانوں کا اپنا یقین ہی اس نظام سے اٹھ چکا ہے۔ اور یہ بات ہمار یحق میں بہت بہتر ہے۔ تم اسی بات کی کوشش کرو کہ یہ الہیات اور علم الکلام جیسی اشیاء میں بحث و مناظرہ میں اپنا وقت ضائع کرتا رہے، اور ایک دوسرے کے ساتھ قرآن کی شرح پر جھگڑتا رہے، کیونکہ اسی میں ہمارا بھلا ہے۔ انہیں بے کار بحثوں میں الجھائے رکھو تاکہ یہ عمل سے بیگانہ رہیاور ہمارا ابلیسی نظام پھلتا پھولتا رہے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمان کا دین ساری دنیا کی ظلمت کو ختم کر دیں، ہمارے ابلیسی نظام کے طلسم کو ختم کریں۔ اس کے لیے یہی مناسب ہے کہ تم انہیں مناظرے میں ہی الجھا کر رکھو، جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مصلوب کر دیے گئے یا نہیں؟ کیا وہ زندہ ہیں یا وفات پا چکے؟ جو مسیح علیہ السلام کے واپس آنے کا ذکر ہے، وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہوں گے یا کوئی امتی ہوگا جس میں حضرت عیسی علیہ السلام کی صفات ہوں گی؟خدا کی ذات اور اس کی صفات میں کیا تعلق ہے؟ کیا قرآن کے الفاظ حادث ہیں یا قدیم؟ امت کی نجات آخر ان سب بحثوں میں کس عقیدے میں ہے؟؟ تم مسلمان کو اس بات سے بیگانہ رکھو کہ اس کی نجات نظام کو لاگو کرنے میں ہے، نا کہ ان بحثوں میں پڑے رہنے سے۔ اسی سے وہ زندگی کی ہر بازی میں شکست کھائے گا۔ تم اسے غیر اسلامی تصوف میں غرق رکھو، تاکہ یہ اسلام کی اصل روح سے بیگانہ رہے۔ یہ کبھی اس بات کا احساس نہ کر سکے کہ اس کی فلاح اسلام کی معاشی و سیاسی نظام پر عمل کرنے میں ہے۔ مجھے ہر لمحہ اس بات کا خوف رہتا ہے کہ یہ امت اگر بیدار ہو گئی تو یہ میرینظام کے لیے موت ہے، کیونکہ یہ نظام پوری کائنات کو اللہ تعالیٰ کا غلام بناتا ہے، اور جواس غلامی سے روگردانی کرے، اس کی سخت باز پرس بھی ہوتی ہے۔ اس لیے میرے مشیران، تم اسے مزاج خانقاہی یعنی بے عملی کی ریاضت و چلہ کشی میں مزید پکا کر دو، تاکہ یہ عملی زندگی میں بے عمل رہے اور جہاد سے بیگانہ رہے۔ یہ اس قابل نہ رہے کہ باطل کے سامنے کھڑا ہو سکے، بلکہ یہ اپنی خواہشات کے زیرِ اثر باطل کا غلام رہے۔۔۔۔ یاد رکھو، مسلمان کی ذہنی و فکری غلامی میں ہی ہماری ابدی کامیابی ہے، کیونکہ انسان کی غلامی سے آزادی ہماری ناکامی کی معراج ہے۔
نظم کے ان آخری تین بند میں علامہؒ نے حقیقی معنی میں قلم توڑ کر رکھ دیا ہے۔ درج بالا تشریح کے بعد یہ گنجائش نہیں کہ مزید کچھ کہا جائے، تاہم اختصار کے ساتھ چند نکات نذرِ قرطاس کیے جاتے ہیں۔ ابلیس غرور و تکبر کے نشے میں دھت اپنے آپ کو مالک و مختار بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ چونکہ اشتراکیت کا نظام غیر فطری ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے، اس لیے مجھے اس نظام سے ہرگز کوئی خطرہ نہیں۔ ہاں، ڈر ہے تو فقط اسلام سے۔ کیونکہ اسلام کا نظام عظمتِ انسانی کے فلسفہ پر کاربند ہے۔ یہ انسان کی حفاظت بھی کرتا ہے اور اس کی پرورش و نشونما بھی۔ یہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کر کے اللہ کا غلام بناتا ہے۔ مگر یہ ابلیس کے لیے شکر کا مقام ہے کہ مسلمان خود اس بات سے بیگانہ ہو کر لایعنی بحثوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ وہ اسلام کو ایک زندہ جیتے جاگتے نظام کے بجائے رسوم و رواج کا ایک مرکب سمجھتے ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس لیے جب تک وہ اسی فکری غلامی و ذہنی جبر میں رہیگا، ابلیسیت کا سورج پوری آب و تاب سے چمکے گا۔
تحریر: محمد عماد عاشق
بشکریہ: مکالمہ ڈاٹ کام

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Shopping Cart
Scroll to Top